رسائی کے لنکس

logo-print

'شمالی کوریا کا جوہری پروگرام ایک سال میں ختم ہوسکتا ہے'


صدر ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی جان بولٹن

جان بولٹن نے کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کے ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کا بیشتر حصہ ایک سال کے اندر اندر عملی طور پر غیر مؤثر کرسکتا ہے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام کو ایک سال کے اندر اندر ختم کیا جاسکتا ہے۔

اتوار کو امریکی ٹی وی 'سی بی ایس نیوز' سے گفتگو کرتے ہوئے جان بولٹن نے کہا کہ اگر شمالی کوریا کا ہتھیاروں کی تیاری ختم کرنے کا فیصلہ حتمی ہے اور وہ اس معاملے میں امریکہ سے تعاون کرے تو "ہم یہ کام بہت تیزی سے انجام دے سکتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کے ہتھیاروں کی تیاری کے پروگرام کا بیشتر حصہ ایک سال کے اندر اندر عملی طور پر غیر مؤثر کرسکتا ہے۔

تاہم امریکی مشیر نے اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کی اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جس کے مطابق شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی جانب سے اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کی یقین دہانی کے باوجود پیانگ یانگ خفیہ طور پر جوہری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

کم جونگ ان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گزشتہ ماہ ہونے والی تاریخی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں سے خطرہ نہیں رہا اور اب ان کے بقول "امریکی چین کی نیند سو سکتے ہیں۔"

اتوار کو 'سی بی ایس' سے گفتگو کرتے ہوئے جان بولٹن کا کہنا تھا کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کئی دہائیوں سے مذاکرات ہورہے ہیں اور اب امریکی بخوبی شمالی کوریا کو سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ حکومت جانتی ہے کہ اگر شمالی کوریا نے مذاکرات کو طول دینے کی کوشش کی تو وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے جوہری، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائلوں کی تیاری جاری رکھے گا۔

لہذا ان کے بقول شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت کرنے والے امریکی حکام اس معاملے پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں اور خبردار ہیں۔

امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہان کے درمیان سنگاپور میں ہونے والے اتفاقِ رائے میں اس کی وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ شمالی کوریا کب تک اور کیسے اپنا جوہری پروگرام ختم کرے گا۔

اس بارے میں جان بولٹن کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اس معاملے پر جلد شمالی کورین حکام کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے جس میں اس کے جوہری ہتھیاروں کی تلفی اور پروگرام کے خاتمے کی تفصیلات طے کی جائیں گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ کم جونگ ان اپنے وعدے کی پاسداری کریں گے اور اپنے ملک کی جوہری صلاحیت سے دستبردار ہوجائیں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ کم جونگ ان جوہری پروگرام کے خاتمے سے متعلق اپنے اعلانیہ وعدے پر عمل کریں گے۔

امریکی نشریاتی ادارے 'فوکس نیوز' کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے سنگاپور میں اپنی ملاقات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کم جونگ ان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے، "ہم نے ہاتھ ملائے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ کم جونگ نے یہ پورے اخلاص سے کیا۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG