رسائی کے لنکس

شمالی وزیرستان: شادی کی تقریب میں بم حملہ، تین ہلاک


نقشے میں شمالی وزیرستان اور پاکستان کے دیگر قبائلی علاقے واضح ہیں۔

واقعہ شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان کے گائوں سید گئی میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب پیش آیا۔

افغانستان سے متصل پاکستان کے سرحدی قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک شادی کی تقریب پر دستی بم کے حملے میں تین افراد ہلاک اور کم از کم 30 زخمی ہوگئے ہیں۔

واقعہ شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان کے گائوں سید گئی میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب پیش آیا۔

ایجنسی انتظامیہ کے مطابق شندھی گل نامی قبائلی کے گھر میں اس کے بیٹے موسٰی گل کی شادی کی تقریب کے سلسلے میں لوگ جمع تھے جن پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا۔

بم حملے کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی ہلاک جب کہ 30 زخمی ہو گئے جنہیں مقامی قبائلیوں نے طبی امداد کے لیے میران شاہ اور بنوں کے اسپتالوں میں منتقل کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

افغانستان کی سرحد سے منسلک اس علاقے میں ہونے والے اس بم حملے کے بارے میں مزید تفصیلات ابھی تک حاصل نہیں ہو سکی ہیں۔ تاہم حکام نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ مقامی قبائل رہنمائوں کے ذریعے معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سید گئی کا علاقہ جون 2014ء میں علاقے میں شروع کی جانے والی فوجی کاروائی سے قبل مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن فوجی آپریشن کے نتیجے میں اب اس علاقے میں قانون کی عمل داری بحال ہو چکی ہے۔

دریں اثنا شمالی وزیرستان کے ایک گائوں تپی میں نامعلوم افراد نے عمر سعید نامی شخص کو مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے لیے جاسوسی کے الزام میں گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔

فوجی آپریشن 'ضربِ عضب' کی تکمیل کے بعد شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG