رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف اپنے بیان پر قائم، اسٹیبلشمنٹ اور حزب اختلاف کی مذمت


ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں دہشت گرد حملے کے بعد آب بھڑک رہی ہے۔ 29 نومبر 2008

سابق وزیراعظم نواز شریف ممبئی حملوں سے متعلق اپنے انٹرویو پرقائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایک قومی کمشن بنا کر یہ فیصلہ کیا جائے کہ مجرم کون ہے اور اسے سزا دی جائے۔ جب کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور حزب اختلاف کی جماعتیں نواز شریف کے بیان کو قومی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کر رہی ہیں۔

نواز شریف کا انٹرویو سامنے آنے کے بعد آج سوموار کو اسلام آباد میں گہما گہمی رہی اور شروع میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت بیان کے خلاف ایک پیج پر نظر آئیں، لیکن بعد میں وزیراعطم شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی اجلاس میں دیے گئے اعلامیہ کے برعکس موقف اختیار کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں نواز شریف کی حمایت کی، اور نوازشریف نے بھی ایک سیاسی جلسے میں اپنے موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔

قومی سلامتی اجلاس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس میں اپنے پارٹی قائد نوازشریف کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ ممبئی حملوں سے متعلق میاں نواز شریف کے بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے اور قومی سلامتی کمیٹی نے اس غلط رپورٹنگ کی مذمت کی ہے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، فائل فوٹو
وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، فائل فوٹو

سول اور عسکری قیادت پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی پاکستان کا اعلیٰ سطح کا فورم ہے جس کے سوموار کو ہونے والے اجلاس میں ممبئی حملوں سے متعلق انگریزی اخبار ڈان میں شائع ہونے والے بیان کو گمراہ کن قرار دیا گیا تھا۔

یہ غیرمعمولی اجلاس بلانے کا اعلان پاکستان فوج کی طرف سے کیا گیا اور قومی سلامتی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کے بعد بیان وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیا گیا۔

اجلاس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ممبئی حملوں سے متعلق نواز شریف کی بات کی غلط تشريح کی گئی۔ ان سے منسوب بیان کے کچھ حصے درست نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ غیر ریاستی عناصر کی سرکوبی کی ہے اور اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں کرنے دی جائے گی۔

شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ کہ وضاحتی بیان دینے کا فیصلہ میرا اپنا ہے۔ مجھے کوئی کھینچ رہا ہے نہ کسی کو کھینچنے کی اجازت ہے۔ استعفے کا سوچ رہا ہوں اور نہ ہی دوں گا۔ سول ملٹری تعلقات ویسے ہی ہیں جیسے نواز شریف کے بیان سے پہلے تھے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ نواز شریف کے بیان کو بھارتی میڈیا نے غلط انداز میں اچھالا۔ نواز شریف سے منسوب تین جملے اچھالے گئے، جن کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے ان الفاظ کی مذمت کی جو غلط پیش کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ خلائی مخلوق کی بات کریں تو الیکشن کمشن برا مان جاتا ہے۔ حکومت اپنے مقررہ وقت سے ایک منٹ پہلے نہیں چھوڑیں گے۔ مخلوق خلائی ہو یا زمینی، ہم الیکشن لڑیں گے اور جیتیں گے۔

انہوں نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ میرے وزیرِاعظم آج بھی نواز شریف ہیں۔ پارٹی آج بھی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نواز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے جب کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاناما اسکینڈل میں نام آنے کے بعد نواز شریف نے ملکی اداروں پر حملے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ بھارت ہمیشہ ہماری فوج کے خلاف بیان دیتا ہے۔ نوازشریف کے بیان سے بھارت کو بہت فائدہ ہواہے ۔ بھارتی میڈیا میں تاثر دیا گیا کہ پاکستان میں سب کچھ فوج کرا رہی ہے۔

تاج محل ہوٹل میں دہشت گرد حملوں میں پکڑا جانے والا اجمل قصاب، جسے جرم ثابت ہونے پر پھانسی دے دی گئی تھی۔
تاج محل ہوٹل میں دہشت گرد حملوں میں پکڑا جانے والا اجمل قصاب، جسے جرم ثابت ہونے پر پھانسی دے دی گئی تھی۔

نوازشریف کے خلاف ہمیشہ سے سخت گیر موقف رکھنے والے عمران خان نے کہا کہ نوازشریف نے انٹرویو میں بڑی سوچ سمجھ کر کہا کہ غیر ریاستی عناصر کو روک سکتے تھے۔ نواز شریف عالمی اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کررہے ہیں کہ مجھے بچاؤ۔ نوازشریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے تا کہ وہ ملک سے فرار نہ ہو سکیں۔

سابق صدر پرویز مشرف نے دبئی سے جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ نواز شریف نے غلط وقت پر بیان دیا۔ اپنے ملک کی آرمی کو بدنام کرنا انتہائی افسوس ناک عمل ہے۔ ایسے وقت پر یہ بیان آنے کے پیچھے ضرور کوئی نہ کوئی بات چھپی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ پاکستان کا ممبئی حملوں میں کوئی کردار نہیں ہے۔ نوازشریف کا بیان انتہائی غیر ذمہ دارانہ و بچگانہ ہے جو ملک کو مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔ وہ اپنا بیان واپس لے لیں۔ نوازشریف ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کے بارے میں بریفنگ لیں تاکہ فرق واضح ہو۔ میاں صاحب نے اگر بیان واپس نہ لیا تو اقوام متحدہ انہیں طلب کرے گا۔

عمران خان
عمران خان

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ نوازشریف کا بیان حافظ سعید کے خلاف اقوام متحدہ کی قرار داد کی حمایت کے مترادف ہے۔ حافظ سعید کے معاملے پر اگر کل اقوام متحدہ بلا لیتا ہے تو نوازشریف کے پاس کیا آپشن ہوگا۔ حافظ سعید کو ان حملوں میں ملوث نہیں پایا گیا تھا۔ بھارت نے اجمل قصاب کا بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

دوسری جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ترجمان نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی قائد کے بیان کو بھارتی میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا اور بدقسمتی سے پاکستان کے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ایک حلقے نے بھارتی پراپیگنڈے کی توثیق کردی۔

شام کو نواز شریف نے بونیر میں ایک جلسہ سے خطاب بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر میں غدار ہوں تو قومی کمشن بنایا جائے تاکہ حساب کتاب ہو جائے۔

نواز شریف نے کہا کہ ہم نے دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دہشت گردی ختم کی۔ کراچی میں وہاں کی حکومت نے کچھ نہیں کیا ہم نے امن قائم کیا۔ جو پاکستان کا آئین توڑ تے اور ملک میں دہشت گردی کا بیچ بوتے ہیں۔ وہ محب وطن ہیں۔ غدار اس شخص کو کہا گیا جو وطن کے لیے مرتا ہے، یہ الٹی گنگا اب نہیں بہے گی۔ اگر میں غدار ہوں تو قومی کمشن بنایا جائے تاکہ حساب کتاب ہو جائے۔ جو مجرم ثابت ہو اسے سرعام پھانسی دی جائے۔ یہ کسی مخصوص لوگوں کا ملک نہیں ہم سب کا ہے۔ ہم ملک کو نقصان پہنچانے والی طاقتوں کے خلاف کھڑے ہوں گے۔

انگریزی اخبار ڈان کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راول پنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہو سکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ وہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ژی جنگ نے بھی کہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG