رسائی کے لنکس

logo-print

اوول آفس میں ٹرمپ اور ڈیموکریٹ قانون سازوں میں تکرار


ڈیموکریٹ پارٹی کی قیادت اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان منگل کے روز اوول آفس میں لفظی جھڑپ ہوئی، جس دوران صدر نے دھمکی دی کہ اگر قانون ساز میکسیکو کی سرحد کے ساتھ ساتھ دیوار کے تعمیر کے وعدے کے لیے درکار رقوم کی فراہمی نہیں کرتے تو حکومت کا ’شٹ ڈاؤن‘ ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’قومی ہنگامی صورت حال‘‘ کا یہی جواب ہوگا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’سرحدی سکیورٹی کی خاطر مجھے حکومت کے ’شٹ ڈاؤن‘ پر فخر ہوگا‘‘۔ پھر دو مرتبہ دہرایا کہ ’’یہ تو مجھے کرنا ہی پڑے گا‘‘۔

اس پر، نیو یارک سے تعلق رکھنے والے سینیٹ کے اقلیتی قائد، چَک شومر نے جواب دیا کہ ’’کسی تنازعے پر ہمیں حکومت کو بند نہیں کرنا چاہیئے، اور آپ ہیں کہ اسے بند کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

بجٹ کی منظوری اور سرحدی سکیورٹی کے بارے میں درکار ووٹوں کے حوالے سے ایوانِ نمائندگان میں کیلی فورنیا کی ڈیموکریٹ پارٹی کی چوٹی کی رُکن، نینسی پلوسی اور ٹرمپ نے ایک دوسرے کے ساتھ خاصی لمبی بحث کی، جس پر اُنھوں نے خبردار کیا کہ ’’شٹ ڈاؤن کوئی معنی نہیں رکھتی‘‘۔

پلوسی نے مزید کہا کہ ’’میں نہیں سمجھتی کہ اس معاملے پر اخباری نمائندوں کے سامنے ہمیں اس پر کوئی بحث چھیڑنی چاہیئے‘‘۔

ٹرمپ نے جواب دیا ’’ہم دوستانہ انداز میں ایسا کر رہے ہیں‘‘، جس پر پلوسی نے شکل بنائی۔

صدر نے مزید کہا کہ ’’نینسی مجھے چَک سے 10 ووٹ درکار ہیں‘‘۔

شومر نے جواب دیا کہ ’’اس ضمن میں ہمارے درمیان بہت سی نااتفاقی ہے‘‘۔ پھر ٹرمپ کے ساتھ گرما گرم بحث ہوئی؛ اوول آفس میں صدر کی جانب سے اُنھیں بولنے سے روکنے پر شومر نے اعتراض کیا۔

پلوسی نے کہا ’’ہمیں اب بس کرنی چاہیئے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ شومر کے ساتھ وہ وائٹ ہاؤس اس ارادے کے ساتھ آئی ہیں، تاکہ کاروبار حکومت بند نہ ہو۔

اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے، شومر نے کہا کہ ’’اس معاملے پر ہمیں اکیلے میں بات کرنی چاہیئے‘‘۔

ٹرمپ نے دلیل دی کہ ’’ہمیں دیوار کی ضرورت ہے۔ یہ دیوار سرحدی سکیورٹی کا ایک جُزو ہے‘‘۔

’’یہ بات درست نہیں۔‘‘ پلوسی نے کہا اور شومر نے اِس سے اتفاق کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG