رسائی کے لنکس

logo-print

بورس جانسن کی 'بریگزٹ' سے قبل انتخابات کی دھمکی


برطانوی وزیرِاعظم کے بقول 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے نکل رہے ہیں۔ اس میں کوئی اگر مگر نہیں ہے۔ ہم اپنے وعدوں سے پھرنے کے کسی اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے ہر صورت 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے بریگزٹ سے قبل انتخابات کی بھی دھمکی دی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق بورس جانسن نے پیر کو ارکان پارلیمنٹ کو خبردار کیا ہے کہ وہ بریگزٹ کے معاملے پر اگر اُن کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کریں گے تو وہ انتخابات کی جانب جائیں گے۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ ملک کو بحرانی صورت حال سے نکالنے کے لیے وہ 31 اکتوبر کو کسی نئے معاہدے یا معاہدے کے بغیر برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کو یقینی بنائیں گے۔

برطانیہ کے پاس یورپی یونین سے انخلا کے لیے 60 روز سے بھی کم وقت ہے۔ اور حزب اختلاف کے اتحاد اور حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کے نالاں ارکان بورس جانسن پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر یورپی یونین سے علیحدگی نہ کریں اور اس کے لیے مزید تین ماہ کا انتظار کریں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اگر پارلیمنٹ بریگزٹ کے معاملے پر ناکام ہوئی تو 14 اکتوبر کو انتخابات کرائے جائیں گے

حزب اختلاف کے اتحاد اور حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کے نالاں ارکان بورس جانسن پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر یورپی یونین سے علیحدگی نہ کریں اور اس کے لیے مزید تین ماہ کا انتظار کریں۔
حزب اختلاف کے اتحاد اور حکمراں جماعت کنزرویٹو پارٹی کے نالاں ارکان بورس جانسن پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ فوری طور پر یورپی یونین سے علیحدگی نہ کریں اور اس کے لیے مزید تین ماہ کا انتظار کریں۔

دوسری جانب وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلا میں مزید تاخیر نہیں کریں گے۔ اور ایسے کوئی حالات نہیں کہ اس میں تاخیر کی جائے۔

وزیر اعظم ہاؤس (ٹین ڈاوؑننگ اسٹریٹ) کے باہر میڈیا بریفنگ کے دوران بورس جانسن کا مزید کہنا تھا کہ ہم 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے نکل رہے ہیں اور اس میں کوئی 'اگر مگر' نہیں ہے۔ ہم اپنے وعدوں سے پھرنے کے کسی اقدام کو قبول نہیں کریں گے۔

حزب اختلاف کا مؤقف ہے کہ کسی معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے انخلا کی صورت میں برطانوی معیشت پر اس کے بُرے اثرات مرتب ہوں گے جب کہ بریگزٹ کے حامی برطانیہ کی یورپی یونین سے جلد علیحدگی چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم کے بعد برطانیہ میں سیاسی بحران کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے اور اسے دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ کی تاریخی کا بڑا بحران قرار دیا جارہا ہے۔

اس ریفرنڈم کے بعد اُس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جس کے بعد وزیرِ اعظم تھریسا مے نے حکومت قائم کی اور انہوں نے یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق کئی ماہ طویل مذاکرات کے بعد ایک معاہدے پر اتفاق کیا۔

تاہم برطانوی پارلیمان نے تھریسامے اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے معاہدے کو تین مرتبہ مسترد کیا۔ پارلیمان سے معاہدہ منظور نہ کرانے پر تھریسامے نے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG