رسائی کے لنکس

بھارتی جوڑے نے جڑواں بچوں کا نام 'کرونا' اور 'کووڈ' رکھ لیا


پریتی کے بقول، بچوں کی پیدائش کے روز ڈیلوری میں پیچیدگی کا سامنا تھا اس لیے انہوں نے بچوں کے نام 'کرونا' اور 'کووڈ' رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ (فائل فوٹو)

کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچائی ہوئی ہے اور ہر طرف کرونا، کووڈ 19، لاک ڈاؤن، احتیاط اور اس طرح کے الفاظ زبان زدِ عام ہیں۔ البتہ کرونا اور کوڈ تباہی کا استعارہ بن گئے ہیں لیکن بھارت میں ایک جوڑے نے اپنے جڑواں بچوں کے نام 'کرونا' اور 'کووڈ' رکھ لیے ہیں۔

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور کے ایک سرکاری اسپتال میں 27 سالہ پریتی ورما کے ہاں 27 مارچ کو جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

بھارت کے سرکاری خبر رساں ادارے (پی ٹی آئی) سے بات کرتے ہوئے پریتی نے بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نام 'کرونا' اور 'کووڈ' رکھ لیے ہیں اور اسپتال کا عملہ بھی بچوں کو انہی ناموں سے پکار رہا ہے۔

پریتی کے بقول، زچگی کے دوران پیچیدگی کا سامنا تھا اس لیے انہوں نے خاوند کے ساتھ صلح مشورے کے بعد بچوں کی پیدائش کا دن یادگار بنانے کے لیے اُن کے نام 'کرونا' اور 'کووڈ' رکھنے کا فیصلہ کیا۔

پریتی سے جب پوچھا گیا کہ کرونا اور کووڈ دنیا میں تباہی کی علامت بنے ہوئے ہیں تو انہوں نے ان ناموں کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ اس پر پریتی نے جواز پیش کیا کہ اس وبا کے پھیلاؤ نے عالمی سطح پر صاف ستھرائی کا خیال رکھنے جیسی اچھی عادتیں لوگوں میں ڈال دی ہیں اس وجہ سے انہوں نے اپنے بچوں کے نام بھی یہی سوچتے ہوئے رکھے ہیں۔

ستائیس سالہ خاتون نے مزید بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑی لانے کی اجازت نہیں تھی اور 26 مارچ کی شب رات گئے اُنہیں درد محسوس ہوا تو ان کے خاوند نے ایمبولینس سروس کو کال کی اور اُنہیں ایمبولینس کی مدد سے اسپتال لے جایا گیا۔

پریتی کے مطابق انہیں جگہ جگہ پولیس اہلکاروں نے روکا لیکن ان کی حالت دیکھتے ہوئے انہیں اسپتال جانے کی اجازت دی گئی۔

ان کے بقول، خوش قسمتی سے اسپتال میں عملہ موجود تھا اور ان کے آپریشن میں 45 منٹ لگے۔ اس تمام مشکلات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے بچوں کے نام 'کرونا' اور 'کووڈ' رکھ لیا ہے۔

تاہم پریتی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے نام بعد میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG