رسائی کے لنکس

راجن پور سے تعلق رکھنے والی کلثوم نے اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف رفاقت سے شادی کی تھی جس پر لڑکی والوں نے مقدمہ درج کرا رکھا تھا۔

جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان میں ایک شخص نے پسند کی شادی کرنے والی اپنی بہن اور بہنوئی کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

تین روز کے دوران غیرت کے نام پر مبینہ قتل کا منظرِ عام پر آنے والا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

واقعہ منگل کو لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ میں پیش آیا جہاں کلثوم نامی لڑکی اپنے شوہر رعونت علی کے ساتھ پیشی کے لیے آئی ہوئی تھی کہ اس کے بھائی ذوالقرنین حیدر نے ان پر فائرنگ کر دی۔

فائرنگ سے لڑکی موقع پر ہی ہلاک ہو گئی جب کہ رعونت اور وہاں پر موجود ایک وکیل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں رعونت اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

پولیس نے ملزم کو جائے واردات سے ہی گرفتار کر کے اسلحہ قبضے میں لے لیا ہے۔

ملزم ذوالقرنین حیدر پولیس کی تحویل میں۔
ملزم ذوالقرنین حیدر پولیس کی تحویل میں۔

راجن پور سے تعلق رکھنے والی کلثوم نے اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف رعونت سے شادی کی تھی جس پر لڑکی والوں نے مقدمہ درج کرا رکھا تھا۔

مقدمے میں پیشی کے لیے کلثوم اپنے شوہر کے ساتھ عدالت آئی تھی کہ موت کا شکار ہوگئی۔

پولیس اسے "غیرت کے نام پر قتل" کی واردات قرار دے رہی ہے۔

ڈی ایس پی انویسٹیگیشن کے مطابق، کلثوم کے والدین نے رعونت کے خلاف راجن پور کے پولیس سٹیشن میں اغوا اور زبردستی نکاح کا مقدمہ درج کرا رکھا تھا اور وہ اسی کی پیشی پر ملتان ہائیکورٹ بیان ریکارڈ کرانے آئی تھی۔ شبینہ کے مطابق، ’’کلثوم، اس کا شوہر رعونت علی اور وکیل سہیل جونہی رکشہ سے اتر کر ملتان ہائیکورٹ میں داخل ہونے لگے تو کلثوم کے بھائی ذوالقرنین نے ملتان ہائیکورٹ کے داخلی دروازے پر فائرنگ شروع کر دی۔ ذوالقرنین کی فائرنگ سے دو گولیاں کلثوم کے پیٹ میں؛ دو گولیاں اس کے شوہر کے پیٹ میں؛ جبکہ ایک گولی وکیل کو لگی‘‘۔

ڈی ایس پی نے بتایا کہ ’’کلثوم موقع پر ہی دم توڑ گئی، جبکہ اس کا شوہر اور وکیل کو فوری طور پر ریسکیو 1122 کی ایمبولینس میں نشتر اسپتال ملتان پہنچایا گیا۔ نشتر اسپتال ملتان ہہنچنے پر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے، رعونت علی بھی دم توڑ گیا، جبکہ وکیل سہیل کی حالت بدستور تشویشناک ہے‘‘۔

دو روز قبل لاہور کے علاقے مانگا منڈی میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو ملازمت نہ چھوڑنے پر تیز دھار آلے سے قتل کر دیا تھا۔

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کوئی غیر معمولی بات نہیں اور آئے روز ملک کے کسی نہ کسی حصے سے ایسی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔

حقوقِ نسواں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں ہر سال سیکڑوں خواتین اپنے ہی رشتے داروں کے ہاتھوں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG