رسائی کے لنکس

اہلیہ کی خواہش پر بوسنیا کے شہری نے 'روٹیٹنگ ہاؤس' بنا دیا


دنیا میں کئی ایسے مقامات ہیں جنہیں محبت کی یادگار کے طور پر تعمیر کیا گیا جن میں سرِ فہرست بھارت کے شہر آگرہ کا تاج محل ہے جسے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی پسندیدہ اہلیہ ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کرایا۔

اسی طرح اپنی بیوی سے اظہارِ محبت کے طور پر بوسنیا کے شہری نے اہلیہ کی خواہش پر ایک ایسا منفرد گھر تعمیر کیا ہے جسے 'روٹیٹنگ ہاؤس' یعنی گھومنے والا گھر قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق 72 سالہ ووجن کیوسک نے اپنی اہلیہ کے لیے یہ گھر خود ڈیزائن اور تیار کیا ہے۔ باہر سے سبز رنگ کے اس گھر کی چھت سرخ رنگ کی ہے جس میں دھات کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس گھر کو پورے دائرے میں گھمایا جا سکتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی اہلیہ یوبستا کی اس خواہش کو پورا کر سکتے ہیں کہ کب ان کی اہلیہ کھڑکی سے باہر کیا دیکھنا چاہتی ہیں۔

کیوسک کہتے ہیں کہ بڑھاپے تک پہنچنے اور میرے بچوں کی جانب سے خاندان کا کاروبار سنبھالنے کے بعد بالآخر میرے پاس اتنا وقت تھا کہ میں اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کر سکوں تاکہ وہ جب چاہیں اپنے گھر کے کمرے کی پوزیشن تبدیل کر سکیں۔

کیوسک کی کہانی سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ کئی برسوں قبل جب کیوسک کی شادی ہوئی تو انہوں نے اپنے اور اپنی اہلیہ کے لیے ایک دوسرا گھر بنایا تھا جہاں ان کے تین بچوں کی پرورش ہوئی۔ اس وقت ان کی اہلیہ کی خواہش تھی کہ ان کے بیڈ رومز سے سورج نظر آئے تو انہوں نے ایسا کیا۔ لیکن اس سے ان کا رہائشی کمرہ سڑک سے دور ہو گیا۔

کیوسک کے مطابق کچھ عرصے بعد ان کی اہلیہ نے شکایت کی کہ وہ ہمارے سامنے صحن سے داخل ہونے والے لوگوں کو نہیں دیکھ سکتیں۔ جس پر کیوسک نے سب کچھ تبدیل کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے ہمارے دو بیڈرومز کے درمیان دیوار میں سوراخ کر کے اسے رہائشی کمرے میں تبدیل کر دیا اور تمام برقی تنصیبات کو منتقل کر دیا۔ ان کے بقول یہ ایک مشکل کام تھا لیکن انہوں نے وہ کیا جو ان کی اہلیہ چاہتی تھیں۔

بعد ازاں چھ سال قبل کیوسک کے بیٹے کی شادی کے موقع پر والدین نے فیصلہ کیا کہ بیٹا گھر کی بالائی منزل پر رہے گا جب کہ وہ لوگ گراؤنڈ فلور پر منتقل ہو جائیں گے۔

کیوسک کے مطابق اس مرتبہ گراؤنڈ فلور کو تبدیل کرنے کے لیے انہوں نے کچھ دیواروں میں سوراخ شروع کیا کیوں کہ اس وقت وہ انتظار نہیں کرنا چاہتے تھے کہ ان کی اہلیہ دوبارہ اپنا ذہن تبدیل کریں۔ لہٰذا انہوں نے ایک نیا گھومنے والا گھر بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اسے جیسے چاہیں گھما سکیں۔

'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق کیوسک کو کبھی کالج جانے کا موقع نہیں ملا لیکن انہوں نے گھر کا ڈیزائن خود بنایا اور اسے تیار بھی کیا۔ گھر کی تیاری میں انہوں نے الیکٹرک موٹرز اور پرانی فوجی گاڑی کے پہیے استعمال کیے۔

کیوسک ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ اب ان کے گھر کا سامنے والا دروازہ بھی گھوم سکتا ہے تو اگر ان کی اہلیہ کسی ناپسندیدہ مہمان کو گھر کی طرف آتے ہوئے دیکھتی ہیں تو وہ گھر کو گھما کر اسے واپس بھیج سکتی ہیں۔

(اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے لی گئی ہیں)

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG