رسائی کے لنکس

logo-print

برازیل: صدر کا مظاہرین سے پُرامن رہنے پر زور


برازیل میں ان مظاہروں کا آغاز بسوں اور سب وے کے کرائے بڑھائے جانے پر شروع کیا گیا تھا جو بڑھتا چلا گیا۔

برازیل کے صدر ڈلما روزیف نے ملک میں حکومت کے خلاف عوامی خدمات پر نا اہلی، زیادہ ٹیکسوں اور کرپشن پر جاری مظاہروں پر عوام سے پُرسکون رہنے پر زور دیا ہے۔ یہ مظاہرے گذشتہ ایک ہفتے سے جاری ہیں۔

صدر روزیف جمعے کی رات ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پُرامن مظاہرے مضبوط جمہوریت کی علامت ہیں مگر پرتشدد مظاہروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

برازیل کے صدر نے جمعے کے ہی روز اپنے خطاب سے قبل ایک ایمرجنسی کیبنٹ میٹنگ کی جس میں حکومتی ملک میں جاری مظاہروں اور تحریک کے بارے میں تفصیلی تبادلہ ِ خیال کیا گیا۔

جمعے کے ہی روز سینکڑوں افراد ریو ڈی جنیرو اور ساؤ پولو میں اکٹھے ہوئے تھے۔ اس سے قبل جمعرات کے روز کم از کم دس لاکھ مظاہرین برازیل کے مختلف شہروں میں گلیوں میں نکل آئے تھے۔ ریو ڈی جنیرو میں تقریباً تین لاکھ افراد جمع تھے جہاں پولیس نے آنسو گیس پھینک کر مظاہرین کو منتشر کیا۔

برازیل میں ان مظاہروں کا آغاز بسوں اور سب وے کے کرائے بڑھائے جانے پر شروع کیا گیا تھا جو رفتہ رفتہ بڑھتا چلا گیا۔ مظاہرین اب حکومت کو اگلے برس فٹبال ورلڈ کپ کے انعقاد کی میزبانی پر بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جس کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG