رسائی کے لنکس

logo-print

سنگاپُور، دُھوئیں کا سلسلہ طُول پکڑ سکتا ہے: وزیرِ اعظم


سنگاپور کے وزیر ِ اعظم نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ دھوئیں کے یہ بادل انڈونیشیا کے سماٹرا جزیرے پر خشک موسم کے خاتمے یعنی ستمبر یا اکتوبر تک جاری رہ سکتے ہیں۔

سنگاپُور کے وزیر ِ اعظم کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملک انڈونیشیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ کی وجہ سے سنگاپور میں چھائے دھوئیں کا سلسلہ ابھی مزید کئی ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔

جمعرات کو سنگاپور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنگاپور کے وزیر ِ اعظم لی سیان لُونگ کا کہنا تھا کہ پڑوسی ملک میں جنگلات میں لگنے والی آگ کے سبب یہ دُھواں سنگاپور میں پیر کے روز داخل ہوا۔

سنگاپور کے وزیر ِ اعظم نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ دھوئیں کے یہ بادل انڈونیشیا کے سماٹرا جزیرے پر خشک موسم کے خاتمے یعنی ستمبر یا اکتوبر تک جاری رہ سکتے ہیں۔

سنگاپور میں فضائی آلودگی کو ماپنے والے آلے کے مطابق جمعرات کو سنگاپُور میں فضاء میں پائی جانے والی آلودگی ریکارڈ سطح یعنی 371 پوائنٹس تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل 1997ء میں سنگاپور میں ریکارڈ فضائی آلودگی نوٹ کی گئی تھی۔

شہر میں پائے جانے والے دھوئیں کے بادلوں کی وجہ سے بہت سے شہری اپنے چہروں پر ماسک لگا کر گھوم رہے ہیں۔ لیکن ان ماسکس کی زیادہ طلب کے باعث سنگاپور کی دکانوں میں ان کی تعداد کم پڑ گئی ہے، یوں شہر میں بہت سے افراد رومالوں اور ٹشو پیپرز سے چہرے ڈھانپنے پر مجبور ہیں۔

سنگاپور شہر میں لکڑی جلنے کی بُو اتنی تیز اور واضح ہے کہ وہاں موجود زیر ِ زمین ریلوے نظام میں بھی اس کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ سنگاپور کے بہت سے شہری گھروں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں اور سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر دھوئیں کے بادلوں کے حوالے سے انڈونیشیاء کے بارے میں اپنی شکایات درج کرا رہے ہیں۔

دوسری طرف انڈونیشیاء کا کہنا ہے کہ وہ ان کمپنیوں کے بارے میں تحقیق کر رہا ہے جو سماٹرا جزیرے پر آگ لگانے کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈونیشیاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ جنگلات کو روایتی طریقے سے جلانے کی بجائے جدید اور مختلف طریقوں کے بارے میں بھی آگہی پھیلائے گا جس سے اس رجحان میں کمی لانا ممکن ہو سکے گا۔
XS
SM
MD
LG