رسائی کے لنکس

logo-print

'برکس' ممالک کا معاشی تعاون بڑھانے کا اعلان


ایک مشترکہ اعلامیہ میں رکن ملکوں نے عالمی طاقتوں اور ایران پر زور دیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق کسی حتمی معاہدے پر فوری اتفاقِ رائے کو یقینی بنائیں۔

دنیا کے پانچ بڑے ترقی پذیر ملکوں نے بین الاقوامی منڈیوں کی غیر یقینی صورتِ حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اپنی معیشتوں کو مستحکم بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔

منگل کو روس کے شہر اوفا میں ہونے والے پانچوں ملکوں کی نمائندہ تنظیم 'برِکس' کے سربراہی اجلاس میں رکن ملکوں نے اپنے ترقیاتی بینک اور ریزرو فنڈ کے باضابطہ آغاز کا بھی اعلان کیا۔

دو روزہ سربراہی اجلاس کی میزبانی روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کر رہے ہیں جب کہ تنظیم کے دیگر چار رکن ملکوں - چین، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے سربراہان کے علاوہ پاکستان سمیت کئی دیگر ترقی پذیر ملکوں کے سربراہان اور اعلیٰ وفود بھی اجلاس میں شریک ہیں۔

اجلاس کے پہلے روز جاری کیے جانے والے ایک مشترکہ اعلامیہ میں رکن ملکوں نے عالمی طاقتوں اور ایران پر زور دیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے مستقبل سے متعلق کسی حتمی معاہدے پر فوری اتفاقِ رائے کو یقینی بنائیں۔

اعلامیے میں ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جو بھی جوہری معاہدہ طے پائے اس کے نتیجے میں ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

'برِکس' کے سربراہی اجلاس نے یوکرین میں جاری بحران پر بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں روس نواز علیحدگی پسندوں اور یوکرین کے سرکاری فوجی دستوں کے درمیان جنگ بندی کے لیے رواں سال فروری میں طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ 'برِکس' ممالک کو بین الاقوامی منڈیوں کے عدم استحکام، توانائی اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور دنیا کے مختلف ملکوں پر بیرونی قرض کے بڑھتے ہوئے دباؤ پر سخت تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام عوامل برِکس ممالک کے معیشتوں اور شرحِ نمو پر اثر انداز ہورہے ہیں اور ان حالات میں تنظیم کے رکن ملکوں کا ارادہ ہے کہ وہ اپنی ترقی کے لیے اپنے داخلی وسائل پر انحصار بڑھائیں۔

صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ تنظیم کا 'نیو ڈویلپمنٹ بینک' رکن ملکوں میں تعمیر و ترقی کے بڑے اور مشترکہ منصوبوں – خصوصاً ٹرانسپورٹ، توانائی اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔

مذکورہ بینک رکن ملکوں کے درمیان تین سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آیا ہے۔ بینک کا صدر دفتر چین کے شہر شنگھائی میں ہوگا جب کہ ابتدائی پانچ برسوں کے دوران اس کی صدارت بھارت سنبھالے گا جس کے بعد پہلے برازیل اور پھر روس بینک کی سربراہی کریں گے۔

بینک کا آغاز ابتدائی طور پر 50 ارب ڈالر کی رقم سے کیا جائے گا جو آئندہ چند برسوں میں بڑھا کر دگنی کردی جائے گی۔ بینک کے لیے پانچوں رکن ملک آئندہ سات برسوں کے دوران 10، 10 ارب ڈالر کا سرمایہ فراہم کریں گے۔

دیگر ممالک بھی مجوزہ بینک کے رکن بن سکیں گے لیکن بینک کے اثاثوں میں 'برِکس' ممالک کا حصہ کم از کم 55 فی صد رہے گا تاکہ انتظامی معاملات پر ان کی گرفت قائم رہ سکے۔ بینک 2016ء میں قرضے دینے کا آغاز کرے گا۔

'برِکس' ممالک کی جانب سے تشکیل دیے جانے والے 100 ارب ڈالر کے ریزرو فنڈ کے لیے چین 41 ارب ڈالر فراہم کرے گا جو دنیا میں زرِ مبادلہ کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والا ملک ہے۔

فنڈ کے لیے بھارت، روس اور برازیل 18، 18 ارب ڈالر دیں گے جب کہ جنوبی افریقہ پانچ ارب ڈالر فراہم کرے گا۔

پانچوں ملک اپنی رقوم اپنے پاس ہی محفوظ رکھیں گے جنہیں ضرورت پڑنے اور بیرونی ادائیگیوں میں مشکل پیش آنے کی صورت میں ضرورت مند ملک کے اکاؤنٹ میں منتقل کردیا جائے گا۔

جمعرات کو تنظیم کے سربراہی اجلاس کے پہلے روز اپنے خطاب میں چین کے صدر ژی جن پنگ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور ایسے میں 'برِکس' ملکوں کو باہمی تعاون میں اضافہ کرنا چاہیے۔

دو روزہ اجلاس کے پہلے روز برازیل کی صدر دیلما روزیف، جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے علاوہ مہمان کی حیثیت سے شریک پاکستان کے وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے بھی خطاب کیا۔

چین، بھارت، روس، برازیل اورجنوبی افریقہ پر مشتمل 'برِکس' تنظیم کا یہ ساتواں سربراہ اجلاس ہے جسے ان پانچوں ابھرتی ہوئی معیشتوں نے بین الاقوامی مالی معاملات میں اپنا کردار اور اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے 2009ء میں تشکیل دیا تھا۔

دنیا کی لگ بھگ 40 فی صد آبادی 'برکس' کے رکن ممالک میں رہتی ہے جب کہ دنیا کی کل معاشی پیداوار میں اتحاد کے ملکوں کا حصہ 20 فی صد ہے۔

XS
SM
MD
LG