رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی وزیرِ اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام


عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے کے بعد اب مے پھر سے اس جانب توجہ مبذول کرسکتی ہیں آیا پارلیمان سے ’بریگزٹ‘ کس طرح منظور کرایا جائے

برطانوی پارلیمان میں بدھ کے روز وزیر اعظم تھریسا مے کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ ناکام رہا، جس سے ایک ہی روز قبل قانون سازوں نے کثرت رائے سے یورپی یونین سے برطانیہ کے الگ ہونے کا اُن کا تجویز کردہ منصوبا مسترد کر دیا تھا۔

عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے کے بعد اب مے پھر سے اس جانب توجہ مبذول کرسکتی ہیں آیا پارلیمان سے ’بریگزٹ‘ کس طرح منظور کرایا جائے۔ مے پیر کے دِن تک ایوان زیریں میں کوئی نئی تجویز پیش کرسکتی ہیں۔ لیکن یہ بات ابھی واضح نہیں آیا وہ کیا تجویز پیش کریں گی۔

عدم اعتماد کے خلاف 325 جب کہ حق میں 306 ووٹ پڑے، جس کے نتیجے میں مے اپنے عہدے پر قائم رہیں گی۔ اُنھوں نے بدھ کی رات بریگزٹ پر بات چیت کے لیے پارٹی کے قائدین کو مدعو کیا۔

رائے شماری سے قبل، مے نے کہا کہ برطانیہ 29 مارچ کے ہدف کے مطابق، یورپی یونین سے الگ ہوگا، اور اگر علیحدہ ہونے کا منصوبہ حقیقت پر مبنی ہے تو بلاک مذاکرات کے عمل کو محض طویل کر سکتا ہے۔

وزیر اعظم کے مشیروں نے کہا ہے کہ وہ چاہیں گی کہ زیادہ وقت میسر ہو تاکہ برسلز جا کر یورپی یونین کے راہنماؤں کو پھر سے مذاکرات کی میز پر بلائیں۔

تاہم، یورپی یونین نے پھر سے مذاکرات کے امکان کو بارہا مسترد کیا ہے، جب سے نومبر میں یہ ڈیل طے کیا گیا۔ لیکن، منگل کے روز ڈیل کی شکست کے بعد جس پر پانچ روز تک مباحثہ جاری رہا، برطانوی اہلکاروں کو یہ توقع ہے کہ یورپی یونین کا دفتر اب کافی رعایتیں دے گا، تاکہ ترمیم شدہ تجویز کی منظوری کے لیے پارلیمانی حمایت حاصل کی جاسکے۔

اپوزیشن کی اہم لیبر پارٹی کے قائد، جیرمی کوربن نے منگل کے روز کے نتائج سامنے آنے کے فوری بعد حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تھی۔

اگر اعتماد کے ووٹ میں مے ہار جاتیں تو برطانیہ عام انتخابات کی طرف جاتا۔ زیادہ تر تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب نہیں ہوگا۔ اور، ناردرن آئرلینڈ کی اقلیتی پارٹی، جس پر مے کا دارومدار تھا، کہا تھا کہ وہ اُن کی حکومت کو جاری رکھنے میں مدد دیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG