رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی اسٹیج اور فلم کے عظیم فنکار ایلن رِک مین چل بسے


رک مین کا فنی کیرئیر 30 سالوں سے بھی زائد عرصے پر محیط رہا۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا شمار برطانیہ کے مشہور ایکٹرز میں ہو اور سنہ 1995 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ایمی ایوارڈ اور گولڈن گلوب ایوارڈ سے نوازا گیا

برطانوی اسٹیج اور پردہ سیمیں کے بہترین ایکٹروں میں شمار ہونے والے ایلن رِک مین 69 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ اہل خانہ نے جمعرات کو ایک بیان میں ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں سرطان تھا اور یہی عارضہ بالآخر ان کی موت کا سبب بنا۔

رِک مین نے 1946ء میں لندن کے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا تھا، جبکہ ’رائل اکیڈمی آف ڈرامیٹک آرٹ‘ سے تربیت حاصل کی تھی۔

رِک مین کا فنی کیرئیر 30 سالوں سے بھی زائد عرصے پر محیط رہا۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا شمار برطانیہ کے مشہور ایکٹرز میں ہو اور سنہ 1995 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ایمی ایوارڈ اور گولڈن گلوب ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں ایچ بی او کی فلم ’راس پیوٹن‘ میں اداکاری کے جوہر دکھانے پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

رِک مین نے فلمی اسکرین پر ایک نہیں۔۔انیک رولز ادا کئے۔ ورائٹی آف رولز کے معاملے میں وہ خوش قسمت رہے۔ تاہم، زیادہ تر فلموں میں انہیں بطور ولن کاسٹ کیا گیا مثلاً ’ڈائی ہارڈ‘ اور ہیری پوٹر سیریز میں۔

لی ڈینیل کی فلم ’دی بٹلر‘ میں رونلڈ ریگن کا رول یا ٹم برٹنز کی ’الائس ان ونڈر لینڈ‘ کا سیکوئل ’دی وائس آف دی بلو کیٹرپلر‘۔۔رک مین نے ہر جگہ اور ہر کردار میں خود کو توقعات سے بڑھ کر ثابت کیا۔ یہ دونوں رک مین کی حالیہ کامیاب فلموں میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ہیری پوٹر سیریلز میں ان کے ہمراہ اداکاری کرنے والے ساتھی فنکار ڈینیل ریڈ کلف کا کہنا ہے کہ رِک مین انتہائی نرم دل، ہنس مکھ اور سخی تھے۔

کلف کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’بلاشبہ میں نے جتنے بھی فنکاروں کے ساتھ کام کیا ہے ان میں رِک مین سب سے عظیم اداکار ثابت ہوئے۔ فلم انڈسٹری میں جتنے لوگوں سے میرا ملنا جھلنا رہا ان میں رِک مین سب سے مخلص اور ہمیشہ اپنے لوگوں کے سب سے بڑے حمایتی ثابت ہوئے۔‘

XS
SM
MD
LG