رسائی کے لنکس

logo-print

عراق میں برطانیہ کی فوجی مداخلت 'غیر ضروری' تھی: رپورٹ


سابق اعلیٰ سرکاری عہدیدار جان چلکوٹ کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی پینل کو اس بات کا تعین کرنا تھا کہ کیا عراق میں امریکہ کی زیر قیادت مداخلت ضروری تھی اور کیا اس کے مضمرات کو بھی نظر میں رکھا گیا تھا۔

عراق کی جنگ میں 13 سال قبل برطانیہ کے کردار سے متعلق تحقیقاتی پینل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی زیر قیادت یہ مداخلت "غیر ضروری" تھی اور برطانیہ یا مغربی قوتوں کو عراقی آمر صدام حسین سے "فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں تھا۔"

سابق اعلیٰ سرکاری عہدیدار جان چلکوٹ کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی پینل کو اس بات کا تعین کرنا تھا کہ کیا عراق میں امریکہ کی زیر قیادت مداخلت ضروری تھی اور کیا اس کے مضمرات کو بھی نظر میں رکھا گیا تھا۔

بدھ کو لندن میں صحافیوں سے کچھا کچھ بھرے کمرے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چلکوٹ کا کہنا تھا کہ "عراق میں فوجی کارروائی کسی موقع پر ضروری ہو سکتی تھی لیکن مارچ 2003ء میں صدام حسین کی طرف سے کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔"

انھوں نے کہا کہ اس سے قبل کہ بین الاقوامی برادری عراق میں تخفیف اسلحہ کے لیے اپنی تمام کوششوں کو بروئے کار لاتی، "جنگ میں کودنے کا فیصلہ کر لیا گیا،" جو کہ بلا جواز تھا۔

اس رپورٹ کی تیاری میں مختلف لوگوں سے سماعت اور تقریباً ڈیڑھ لاکھ دستاویزات کا تجزیہ کیا گیا۔

پینل نے برطانوی فورسز کی کارروائیوں پر ملک کے سیاستدانوں، انٹیلی جنس حکام، سفارتکاروں اور جنرلز کو مورد الزام ٹھہرایا۔

چلکوٹ کا کہنا تھا کہ فوجی مداخلت کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد میں کئی سنگین غلطیاں تھیں اور یہ "بہت غلط ثابت ہوئی۔"

"ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ عراق میں برطانیہ کی مداخلت کا فیصلہ اس ملک کو اسلحے سے پاک کرنے کے لیے پرامن کوششوں کے ختم ہونے سے قبل ہی کر لیا گیا۔ اُس وقت فوجی کارروائی آخری حربہ نہیں تھا۔"

عراق میں فوجی مداخلت کے وقت برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر تھے اور انھیں پہلے بھی اس جنگ میں برطانیہ کے کردار پر خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

بدھ کو اپنے ایک بیان میں ٹونی بلیئر نے کہا صدام حسین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ انھوں نے نیک نیتی سے کیا جو ان کے نزدیک ملک کے بہترین مفاد میں تھا۔

XS
SM
MD
LG