رسائی کے لنکس

برطانوی پارلیمان میں قبل از وقت انتخابات کی تجویز منظور


برطانوی پارلیمان نے بدھ کے روز واضح اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم تھریسا مے کی جانب سے 8 جون کو قبل از وقت عام انتخابات کرانے کے مطالبے کی منظوری دی ہے، جو شڈول سے تین سال قبل ہوں گے۔

مے نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان ان توقعات کی بنا پر کیا کہ اس سے برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے اقدام پر عمل درآمد میں مدد ملے گی۔

پارلیمان میں تجویز کے حق میں 522 اور مخالفت میں 13 ووٹ پڑے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ قبل از وقت انتخابات کی تجویز منظور ہو گی، جس کے لیے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس سے یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کے معاملے پر مذاکرات میں مے کے ہاتھ مضبوط ہوں گے اور عمل درآمد کے سلسلے میں حزب مخالف کو مضبوط آواز میسر آئے گی۔

لسبن کے یورپی یونین کے معاہدے کی شق 50 کے تحت مے نے گذشتہ ماہ یونین سے علیحدگی کے لیے دو سال کے مذاکراتی عمل کا آغاز کیا۔ تاہم برطانوی لیڈر کے خلاف حزب اختلاف کا احتجاج اثرانداز ہوا ہے، تاکہ تجارت اور ٹیکس کے حوالے سے مذاکرات کس طرح ہوں گے۔

مے نے کہا کہ قبل از وقت ووٹ اس لیے ضروری ہے تاکہ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ اُن کی حکومت کی ’’مذاکرات میں پوزیشن مضبوط ہو‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ اسی طرح سے ہی، ’بریگزٹ‘ سے آگے برطانیہ کے مستقبل کے بارے میں ہماری سوچ واضح اور مستحکم رہے‘‘۔

بدھ کے روز مے نے اپنی سوچ کا اعادہ کیا کہ ’بریگزٹ‘ سے علیحدگی کے فیصلے سے واپسی ممکن نہیں ہے۔

قبل از وقت انتخابات کرانے سے دیے گئے دو برس کے نظام الاوقات میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن، اس سے اس اقدام کے بارے میں اختلاف رائے کا نیا سلسلہ چل پڑے گا، جس نے گذشہ برس سے ملک کو بری طرح منقسم کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG