رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: یورپی یونین کی رکنیت پر ریفرنڈم کا عندیہ


ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ برطانوی عوام میں یورپی یونین کے بارے میں بدگمانی اپنے عروج پر ہے

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اعلان کیا ہے کہ اگر ان کی جماعت نے آئندہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو وہ یورپی یونین میں برطانیہ کی رکنیت کی شرائط کے از سرِ نو تعین کے بعد عوام سے ان کی منظوری لیں گے۔

ڈیوڈ کیمرون نے یہ اعلان یورپی یونین اور برطانیہ کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں بدھ کو کیے جانے والے اپنے ایک پالیسی خطاب میں کیا جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا جارہا تھا۔

اپنے خطاب میں ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ برطانوی عوام میں یورپی یونین کے بارے میں بدگمانی اپنے عروج پر ہے اور تنظیم کے ساتھ برطانیہ کی رکنیت کی نئی شرائط میں مشترکہ منڈی کا مطالبہ سرِ فہرست ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ نئی شرائط کے تعین کے بعد برطانوی عوام سے ریفرنڈم کے ذریعے یہ رائے مانگی جائے گی کہ آیا وہ ان شرائط کو تسلیم کرتے ہیں یا برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی ہیں۔

وزیرِاعظم کیمرون کا کہنا تھا کہ 2015ء میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے ان کی جماعت 'کنزرویٹو' کے منشور میں یہ بات شامل ہوگی کہ عوام انہیں برطانیہ اور یورپی یونین کے مستقبل کا تعین کرنے کا اختیار دیں۔

برطانوی وزیرِاعظم کے اس اعلان پر ان کے بعض یورپی اتحادیوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

جرمنی کے وزیرِخارجہ گیڈو یسٹر ویلے نے بدھ کو اپنے ردِ عمل میں کہا کہ ان کے ملک کی خواہش ہے کہ برطانیہ بدستور یورپی یونین کا ایک سرگرم اور تعمیری رکن رہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ لندن حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یورپی یونین میں شامل رہنے کے لیے اپنی مرضی کی شرائط طے کرائے۔

یورپی سے باہر برطانیہ کا قریب ترین اتحادی امریکہ بھی ماضی میں برطانیہ پر زور دیتا آیا ہے کہ وہ بدستور یورپی یونین کا حصہ رہے۔
XS
SM
MD
LG