رسائی کے لنکس

logo-print

بروکلین: غیرت کے نام پر قتل، ٹیکسی ڈرائیور کو عمر قید کی سزا


ملزم نے اپنی بیٹی آمنہ اجمل کو پاکستان بھیج کر قریبی رشتہ دار سے زبردستی شادی کرانے کی کوشش کی تھی، تاکہ اسے امریکی ویزہ مل سکے

بروکلین کےکیب ڈرائیور، محمد اجمل چوہدری کو ڈسٹرکٹ عدالت نے بیرون ملک غیرت کے نام پر قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

ملزم نے اپنی بیٹی آمنہ اجمل کو پاکستان بھیج کر قریبی رشتہ دار سے زبردستی شادی کرانے کی کوشش کی تھی، تاکہ اسے امریکی ویزہ مل سکے۔ تاہم، اس کی بیٹی اس رشتے کے لئے تیار نہ تھی اور وہ شجاعت عباس نامی نوجوان کی مدد سے واپس امریکہ فرار ہوگئی تھی۔

عدالت کے جج ولیم کنز کے مطابق اجمل چوہدری نے پاکستان میں بیٹی کے فرار کے بعد غصے میں اس کی مدد کرنے والے شخص کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ اس نے تین سال سے زائد عرصہ تک اپنی بیٹی امینہ اجمل کو اس کی مرضی کے بغیر پاکستان میں رکھا اور زبردستی اپنے دوسرے رشتہ دار سے شادی پر مجبور کیا۔

اس دوران، ایک نوجوان شجاعت سے امینہ نے رابطہ کیا اور اس کے علاوہ امریکی محکمہٴخارجہ کی مدد سے جنوری 2013ء میں وہ پاکستان سے فرار ہو کر امریکہ پہنچ گئی۔

امریکہ پہنچ کر وہ والد کے گھر نہیں گئی۔ لیکن ٹیلی فون پر والد سے رابطہ رکھا۔ اس دوران، ریکارڈ ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران، اجمل چوہدری مسلسل اسے دھمکیاں دیتا رہا کہ اگر وہ فوری بروکلین میں واقع اپنے گھر واپس نہ آئی تو شجاعت عباس اور اس کی فیملی کو قتل کرادے گا۔

اس کی دھمکی کے بعد پچیس فروری 2013ء کو عباس کے والد اصغر عباس اور اس کی بہن مدیحہ عباس کو پاکستان میں قتل کردیا گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق قتل کے بعد، چوہدری کے بھائی اور دیگر رشتہ دار ہاتھوں میں بندوق لئے مقتولین کے پاس کھڑے لاشوں کو کریدتے ہوئے دیکھے گئے۔

قتل کی اس واردات کے بعد چوہدری اجمل کو بروکلن میں اسے گھر کے باہر سے گرفتار کرلیا گیا۔ لیکن، اس دوران، پاکستان میں اس قتل پر کسی پر بھی فرد جرم عائد نہیں کیا گیا۔ اس مقدمے میں وفاقی عدالت نے جولائی 2014ء میں اجمل چوہدری کو بیرون ملک قتل کی سازش، امیگریشن فراڈ اور دھمکیوں کے مقدمے میں مجرم ٹھہرایا تھا۔

سزا کے بعد مجرم کے وکیل ینگ اسٹیفورڈ نے سزا کے خلاف اعلی عدالتوں میں اپیل دائر کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG