رسائی کے لنکس

logo-print

برکینا فاسو: حزب مخالف نے فوج کا اقتدار سنبھالنا 'مسترد' کردیا


امریکہ نے اس کے بقول برکینا فاسو کے عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی فوجی کوشش کی مذمت کی ہے۔

برکینا فاسو میں حزب مخالف اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے صدر بلائس کومپاورے کے استعفے کے بعد اقتدار پر فوج کے قبضے کو مسترد کردیا ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے صدر کے استعفے کو عوام کی طرف سے چلائی جانے والی تحریک کی "فتح" قرار دیا جو کہ عوام کی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عبوری نظام "جمہوری اور سول" ہونا چاہیے اور فوج کی طرف سے اس پر "قبضہ" نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس بیان سے چند گھنٹے قبل صدارتی گارڈز کے نائب کمانڈر یعقوب اسحٰق ضدا نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک کی قیادت کی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔

ادھر امریکہ نے اس کے بقول برکینا فاسو کے عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی فوجی کوشش کی مذمت کی ہے۔

محکمہ خارجہ نے فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اقتدار سویلین انتظامیہ کو منتقل کرے جو آئین سے رہنمائی لیتے ہوئے فوری آزادانہ اور شفاف صدارتی انتخابات کا منصوبہ تیار کرے۔

فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں فوج کے سربراہ جنرل اونورے ٹراورے کے دستخط کے ساتھ کرنل ضدا کی حمایت کا کہا گیا تھا۔

جنرل ٹراورے قبل ازیں عبوری نظام کی سربراہی کا اعلان بھی کرچکے تھے۔

مستعفی ہونے والے صدر کومپاورے کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ پڑوسی ملک آئیوری کوسٹ میں ہیں۔

کومپاورے نے جمعہ کو اپنے عہدے سے استعفیIٰ دے دیا تھا۔ وہ 1987ء میں ایک بغاوت کے ذریعے اقتدار میں اور تقریباً 27 سال تک اس پر براجمان رہے۔

اپنے عہدے میں توسیع کے لیے انھوں نے ایک تجویز پیش کی تھی جس کی منظوری کی صورت میں وہ اگلی مدت کے بھی صدر رہ سکتے تھے۔ لیکن اس کے خلاف شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں کی وجہ سے تجویز منظور نہ کی گئی۔

XS
SM
MD
LG