رسائی کے لنکس

برما: دو بین الاقوامی ’این جی اوز‘ قصبہ چھوڑنے پر مجبور


’ایک طبی تنظیم کے طور پر، ہم نسل یا مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں برتتے۔ ہم ہر کسی کی مدد کے لیے حاضر ہیں، جسے ہنگامی طبی نگہداشت کی ضرورت ہو‘: ایک این جی او کا مؤقف

مغربی برما میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں یہ الزمات لگنے کے بعد کہ مقامی بودھ متوں کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے دوران بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) نے روہنگیا مسلمانوں کا ساتھ دیا، دو ’این جی اوز‘ قصبہ چھوڑ کر چلی گئی ہیں۔

یہ احتجاج اِس ہفتے کےآغاز پر اُس وقت سامنے آیا جب ’پوکتا‘ نامی قصبے کے قریب جھڑپیں واقع ہوئیں۔

مقامی بودھوں نے شکایت کی تھی کہ گروپ ’ڈاکٹرز وِدھاؤٹ بارڈرز‘، جسے اُس کے فرانسسی ہم وزن حروف ’ایم ایس ایف‘ سے بھی پکارا جاتا ہے، اُس نے صرف زخمی تین مسلمانوں کو امداد فراہم کی جب کہ دو زخمی راکھین خواتین کو تڑپتا ہوا چھوڑ دیا گیا، جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بعد میں چل بسیں۔

تاہم، راکھین میں قائم ’ایم ایس ایف‘ کے ایک اہل کار، مائیکل ٹرینائٹ نے بتایا کہ اُن کے گروپ کو یہی اطلاع ملی تھی کہ مسلمان مرد زخمی ہوئے ہیں۔

اُن کے بقول، ’کسی بھی مرحلے پر ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس برادری میں دیگر لوگ بھی زخمی ہیں، جنھیں طبی امداد کی ضرورت ہے۔ ورنہ، یقیناً ہم اُن کی اسپتال منتقلی میں مدد دیتے۔ ایک طبی تنظیم کے طور پر، ہم نسل یا مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں برتتے۔ ہم ہر کسی کی مدد کے لیے حاضر ہیں، جسے ہنگامی طبی نگہداشت کی ضرورت ہو‘۔

دراصل، چند عشرے قبل، اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے ایک سمجھوتے کے تحت بین الاقوامی این جی اوز ریاستِ راکھین آئی تھیں، جس کا مقصد بنگلہ دیش سے واپس آنے والے مسلمانوں کی آبادکاری میں مدد دینا تھا۔ تاہم، حالیہ برسوں کے دوران، اِن تنظیموں نے مختلف قسم کےامدادی کام کی پیش کش کی، خاص طور پر قدرتی آفات اور تشدد کی کارروائیاں چِھڑ جانے کے بعد‘۔

گذشتہ سال ریاست راکھین میں فرقہ وارانہ تشدد تشویش کا باعث رہا ہے۔ ایسے میں جب گذشتہ برس کے دوران مسلمانوں اور بودھوں کے درمیان جھڑپوں میں 200سے زائد افراد ہلاک اور 140000افراد بے گھر ہوئے۔
XS
SM
MD
LG