رسائی کے لنکس

logo-print

برما: مسلمان برادری اور بودھوں کو قریب لانے کا منصوبہ


ریاستی حکومت کے ترجمان، یو ہلا تھاین نے’ وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ بودھ اور مسلمان برادریوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ایک پروگرام تشکیل دیا گیا ہے

اقوام متحدہ کے ایلچی برائے انسانی حقوق نے برما کی راکھین ریاست کے اُس علاقے کا دورہ کیا جہاں تشدد کے واقعات کی ایک تازہ لہر بھڑک اُٹھی تھی۔

بے گھر روہنگیا مسلمانوں کے خیموں کا دورہ کرتے ہوئے، ٹامس اوجیا کوائنتانا نے مکینوں پر زور دیا کہ وہ منظم ہوں، تاکہ تشدد کے فسادات کے سلسلے کا کوئی پُر امن حل تلاش کیا جاسکے۔

اُن کے بقول،’آپ (مسلمان برادری) پر ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ امن کی تلاش کے لیے آپ کو منظم ہونا ہوگا۔ مجھے صورت حال میں بہتری کی امید ہے۔ مجھے پتا ہے کہ بہت سی مشکلات لاحق ہیں۔ مجھے احساس ہے کہ ایسے میں زندہ رہنا امتحان سے کم نہیں، لیکن حل کے تلاش کے سلسلے میں آپ کے ساتھ ہوں‘۔

اُنھوں نے راکھین بودھ برادری کے ارکان اور ریاستی حکومت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کی۔

ریاستی حکومت کے ترجمان، یو ہلا تھاین نے’ وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ بودھ اور مسلمان برادریوں کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ایک پروگرام تشکیل دیا گیا ہے۔

گذشتہ برس راکھین کی ریاست میں مسلمانوں اور بودھوں کے درمیان ہونے والے فسادات میں 200سے زائد افراد ہلاک جب کہ 140000افراد بے گھر ہوئے۔ گذشتہ ہفتے پولیس اور روہنگیا برادری کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

راکھین کے دورے کے بعد، کوائنتانا رنگوں گئے جہاں اُنھوں نے ’دِی سول سوسائٹی‘ نامی ایک وسیع تر غیر سرکاری تنظیم کے نمائندوں سے ملاقات کی، جو حقوق انسانی اور جمہوریت نواز گروپوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
XS
SM
MD
LG