رسائی کے لنکس

logo-print

برونڈی: مسلح افراد کا فوجی تنصیبات پر حملہ، کم ازکم 87 ہلاک


ایک فوجی ترجمان نے ہفتے کے روز بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 79 'دشمن' بھی شامل تھے، جب کہ آٹھ فوجی اور پولیس اہل کار ہلاک ہوئے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ دن بھر جاری رہنے والی لڑائی میں، جو ہفتے کی صبح تک جاری رہی، 45 مشتبہ افراد کو پکڑ لیا گیا

برونڈی کی فوج کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز دارالحکومت، بجمبورہ میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے فوجی تنصیبات پر مربوط حملوں کے نتیجے میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہوئے۔

ایک فوجی ترجمان نے ہفتے کے روز بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 79 'دشمن' بھی شامل تھے، جب کہ آٹھ فوجی اور پولیس اہل کار ہلاک ہوئے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ دن بھر جاری رہنے والی لڑائی میں، جو ہفتے کی صبح تک جاری رہی، 45 مشتبہ افراد کو پکڑ لیا گیا۔

دارالحکومت کے متعدد مضافات میں خوف زدہ مکینوں نے ہفتے کی علی الصبح مغربی اخباری نمائندوں کو بتایا کہ سڑکوں پر درجنوں لاشیں بکھری ہوئی ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ کچھ لوگوں کو سکیورٹی فورسز نے اپنے گھروں سے گھسیٹ کر باہر نکالا۔ دیگر نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے کچھ کے ہاتھ پیچھے سے بندھے ہوئے ہیں۔

فوج نے اِن الزامات سے انکار کیا ہے۔

مئی میں تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے بعد یہ ہلاکتیں بدترین نوعیت کی خیال کی جاتی ہیں، جس سے کچھ ہی ہفتے قبل دو بار عہدہ سنبھالنے والے صدر پیرے نکورنزیزا نے تیسری بار عہدہ سنبھالنے کا متنازع اعلان کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تب سے تقریباً 250 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جب کہ 200000 لوگ تشدد کے واقعات سے بچنے کے لیے ملک چھوڑ کر ہمسایہ ملکوں کی جانب بھاگ نکلے ہیں۔

XS
SM
MD
LG