رسائی کے لنکس

logo-print

ضمنی انتخابات کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج


غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کو دوسری جماعتوں پر برتری حاصل ہے۔

پاکستان میں جمعرات کے روز ضمنی انتخابات میں ہونے والی پولنگ کے بعد نصب شب کے بعد تک ووٹوں کی گنتی جاری تھی۔ قومی اسمبلی کی 15 اور صوبائی اسمبلیوں کی 26نشستوں میں سے زیادہ تر پر غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کو دوسری جماعتوں پر برتری حاصل تھی. جبکہ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ وغیرہ نے بھی کئی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اب تک کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج مقامی میڈیا کے ذریعے سامنے آئے ہیں ان کی تفصیلات کچھ اس طرح ہیں۔

قومی اسمبلی

این اے ون پشاور ایک
یہاں12اُمیدوار میدان میں تھے لیکن مقابلہ غلام احمد بلور نے جیتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گیارہ مئی کو ہونے والے انتخابات میں غلام احمد بلور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے انتخاب ہار گئے تھے۔ اس بار اس حلقے سے تحریک انصاف نے گل بادشاہ کو کھڑا کیا تھا جو غلام احمد بلورکے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے صوابی تیرہ صوابی دو
یہاں10اُمیدوار مقابل تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کے عاقب اللہ خان نے 35,749 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ جے یو آئی ف کے مولانا عطاء الحق 26,996 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 48اسلام آباد ون
اس نشست کے لئے کل 22 اُمیدواروں میں مقابلہ ہوا۔ان میں سے تحریک انصاف کے اسدعمر نے48 ہزار33 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی جبکہ ن لیگ کے اشرف گجر نے41 ہزار186 ووٹ لیے۔

این اے 68سرگودھا پانچ
یہاں سے ن لیگ کے شفقت حیات خان67ہزار785 ووٹ لیکرکامیاب ہوئے۔ دوسرے نمبر پر رہے آزاد امیدوار جاوید حسنین جنہوں نے 41ہزار273ووٹ لئے۔ پنجاب کے اس حلقے میں 10لوگوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا۔ ان میں پی پی پی کے سردار علی عباس خان بلوچ اور تحریک انصاف کے ملک نذیر احمدبھی شامل تھے۔

این اے 71میانوالی ایک
میانوالی کے اس حلقے میں 8 اُمیدوار آمنے سامنے تھے جن میں مسلم لیگ ن کے عبیداللہ شادی خیل تحریک انصاف کے ملک وحید خان اورپی پی پی کے شوکت پرویز خان سرفہرست تھے۔ بحرکیف نون لیگ کے امیدوار عبیداللہ شادی خیل کامیاب قرار پائے جبکہ تحریک انصاف کے ملک وحید دوسرے نمبرپرآئے۔

این اے 83 فیصل آباد نو
اس حلقے میں11 اُمیدواروں نے انتخاب لڑا۔ ان میں مسلم لیگ نون کے اُمیدوار میاں عبدالمنان، تحریک انصاف کے فیض اللہ کاموکہ،پی پی پی کے ممتاز علی چیمہ شامل تھے۔ عبدالمنان 47,540 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے فیض اللہ کموکا 36,000 ہزار ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 103حافظ آباد دو
اس نشست کے لئے سات امیدوار تھے تاہم یہ نشست نون لیگ کے شاہدحسین بھٹی نے جیت لی۔ تحریک انصاف کے چودھری شوکت بھٹی دوسرے نمبرپرآئے۔

این اے 129 لاہور بارہ
یہاں کے پندرہ امیدواروں میں سے قسمت کی دھنی ثابت ہوئیں نون لیگ کی شازیہ مبشر۔ جنہوں نے اپنے قریب ترین حریف اورتحریک انصاف کے امیدوار محمد منشا کو ہرا دیا۔

این اے 177مظفر گڑھ دو
یہاں سے ایک دو نہیں 21 امیدوار میدان میں تھے جن میں پی پی پی کے غلام ربانی کھراور تحریک انصاف کے میاں شاہد مصطفی قریشی بھی شامل رہے۔پیپلزپارٹی کے غلام ربانی کھر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار جاوید خان دستی دوسرے نمبر پر رہے۔

این اے 235سانگھڑدو
یہاں کل 13امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ نمایاں امیدواروں میں پاکستان پیپلز پارٹی کی شازیہ مری اور مسلم لیگ فنکشنل کے خدا بخش ڈار شامل تھے بالآخر پیپلزپارٹی کی شازیہ مری کامیاب ہوئیں جنہوں نے خدا بخش درس کو شکست دے دی۔

پنجاب اسمبلی کے نتائج

پی پی 118 منڈی بہاالدین تین
یہاں سے ن لیگ کے چودھری اختر کامیاب قرار پائے جبکہ تحریک انصاف کے لیاقت رانجھا دوسرے نمبر پر رہے۔ یہاں سے12 اُمیدوار میدان میں اترے ۔ اُن میں میجر ذوالفقار علی گوندل (پی پی پی) بھی شامل تھے ۔

پی پی 123 سیالکوٹ تین
یہاں سے نون لیگ کے امیدوار خواجہ منشاء اللہ بٹ کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کے داؤد پرویز کا دوسرا نمبر رہا۔ اس حلقے سے پانچ امیدوار آمنے سامنے تھے جن میں مذکورہ امیدواروں کے علاوہ پی پی پی کے امیدوار حاجی مشتاق احمد مغل بھی شامل تھے۔

پی پی 142 لاہور چھ
نون لیگ کے خواجہ سلمان رفیق کامیاب ہوکر اول نمبر پر رہے جبکہ تحریک انصاف کے وقار احمد دوسرے نمبر پر آئے۔ یہاں کل سات اُمیدوار آمنے سامنے تھے۔ اُن میں پی پی پی کے محمد ادریس بھی شامل ہیں۔

پی پی 150 لاہور چودہ
نون لیگ کے میاں مرغوب 18ہزار870 ووٹ لیکرکامیاب ہوئے۔ ان کے مقابلے میں تھے تحریک انصاف کے مہر واجد عظیم جو دوسرے نمبر پر رہے۔ یہاں سے کل چودہ امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا تھا۔

پی پی 193 اوکاڑہ نو
پیپلزپارٹی کے خرم وٹو41 ہزار426 ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ نون لیگ کے نورالامین وٹو 25 ہزار459 ووٹ لیکردوسرے نمبر پر رہے۔ یہاں سے11 اُمیدوار میدان میں تھے۔ یہاں پہلے ہی خرم جہانگیر وٹو اور نورالامین وٹو کے درمیان کانٹے کا مقابلے متوقع تھا۔

پی پی 217 خانیوال چھ
اس نشست کے لئے 23 اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا تاہم ن لیگ کے رانا بابر حسین 41,686 ووٹوں کے ساتھ کامیاب قرار پائے جبکہ پی ٹی آئی کے مقصود عالم 18,244 ووٹ حاصل کرسکے۔

پی پی 289 رحیم یار خان پانچ
پاکستان مسلم لیگ ن کے رئیس محبوب کامیاب ہوئے۔پیپلزپارٹی کے میاں اسلم23 ہزار270 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پررہے۔ یہاں13 اُمیدوار تھے۔ تحریک انصاف کے ڈاکٹر ضیا اللہ جتوئی بھی اسی حلقے سے کھڑے ہوئے تھے۔

سندھ اسمبلی کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج

پی ایس64 میر پور خان ایک
ایم کیوایم کے ڈاکٹرظفرکمالی کامیاب قرار پائے۔ پیپلزپارٹی کے عبدالسعیدقریشی دوسرے نمبرپر رہے۔یہ وہ حلقہ ہے جہاں سے سب سے زیادہ 53 امیدوار میدان میں تھے۔ شیخ محبوب جیلانی تحریک انصاف کے اُمیدوار بھی یہیں سے کھڑے ہوئے تھے۔

پی ایس 95 کراچی چار
ایم کیوایم کے محمدحسین47ہزار274 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے ۔ ان کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے جمیل ضیا تھے جنہوں نے 1254 ووٹ حاصل کئے جبکہ حلقے سے دیگر گیارہ امیدواروں میں مسلم لیگ ن کے محمد جاوید خان بھی شامل تھے۔

پی ایس 103 کراچی پندرہ
اس حلقے سے گیارہ اُمیدواروں نے حصہ لیا تھا۔ یہاں سے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار رف صدیقی نے24ہزار938 لیکر یہ مقابلہ جیت لیا جبکہ تحریک انصاف کے سلطان احمد نے 2 ہزار 684 ووٹ لیے۔

بلوچستان اسمبلی

پی بی44 لسبیلہ ایک
پی بی44 لسبیلہ ایک سے3 اُمیدوار ایک دوسرے کے مدِمقابل تھے۔ یہاں سے نون لیگ کے پرنس احمد علی کامیاب رہے۔ ان کا مقابلہ کیا پیپلزپارٹی کے نصراللہ نے۔ وہ دوسرے نمبر پرآئے۔

خیبر پختونخوااسمبلی کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج

پی کے 23 مردان ایک
یہاں سے8 اُمیدواروں نے الیکشن لڑا تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے احمد خان بہادر 13,606 ووٹ لے کامیاب ہوئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سید عمر فاروق 12 869 ووٹ لے سکے۔
XS
SM
MD
LG