رسائی کے لنکس

logo-print

کیلی فورنیا شوٹنگ: کم از کم 14 ہلاک، 14 زخمی


پولیس سربراہ نے شوٹنگ کے واقعے کو ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیا۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے آیا حملہ آوروں کا مقصد کیا تھا؛ اُنھوں نے یہ بھی نہیں بتایا آیا ہلاک و زخمی ہونے والے مرکز کے ملازم تھے یا پھر مریض

کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں اپاہجوں کے ورزش کے مرکز پر ہونے والے شوٹنگ کے واقع میں کم از کم 14 افراد ہلاک، جب کہ 14 زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ شہر لاس انجلیس کے مشرق میں ایک گھنٹے کی مسافحت پر واقع ہے۔

سان برنارڈینو کے پولیس سربراہ، جیروڈ برگن نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ شوٹنگ کے اس واقعے میں کم از کم تین حملہ آور ملوث تھے، جو مار دھاڑ کے لیے تیار ہو کر آئے تھے۔ برگن کے بقول، اُنھوں نے ’لانگ گنز‘ استعمال کیں۔

واردات کے بعد، مشتبہ افراد سیاہ رنگ کی ایک ’ایس یو وی‘ گاڑی میں سوار ہو کر موقع سے فرار ہوگئے۔ پولیس نے پبلک سے اپیل کی ہے کہ تلاش کے کام میں مدد دی جائے۔

پولیس سربراہ نے شوٹنگ کے واقعے کو ’داخلی دہشت گردی‘ قرار دیا۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے آیا حملہ آوروں کا مقصد کیا تھا؛ اُنھوں نے یہ بھی نہیں بتایا آیا ہلاک و زخمی ہونے والے مرکز کے ملازم تھے یا پھر مریض۔

موقع پر موجود، ایف بی آئی کے ایک اہل کار نے بتایا کہ چھان بین کرنے والوں کو یہ پتا نہیں لگ سکا آیا حملے کے محرکات کا کسی طور پر بین الاقوامی دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے۔

تنصیب جہاں شوٹنگ کا یہ واقع پیش آیا اُسے ’اِن لینڈ ریجنل سینٹر‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اِسے 40 سے زیادہ برس قبل تعمیر کیا گیا، جہاں معذوروں کا علاج کیا ہے اور اُن کی مدد کی جاتی ہے۔

’سی بی ایس ٹیلی ویژن‘ کو بیان دیتے ہوئے، صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ میں اس طرح کے شوٹنگ کے واقعات اب روز کا معمول بنتے جارہے ہیں، جس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکیوں کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ سرکاری سطح پر اہل کاروں کو مل بیٹھنا ہوگا، اور پارٹی بازی سے اوپر ہو کر سوچنا ہوگا کہ گولیاں چلنے کے واقعات کو معمول بننے سے کس طرح روکا جائے۔

دو سرکردہ صدارتی امیدواروں نے ٹوئٹر پیغامات جاری کیے ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی صدارتی امیدوار، ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ ’میں نہیں سمجھتی کہ یہ عام سی بات ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اسلحے کے استعمال سے تشدد کا خاتمہ کرنے کا اقدام کریں‘۔
ادھر، ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار، ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’یہ انتہائی برُا واقعہ ہے‘۔ اُنھوں نے امید کا اظہار کیا کہ پولیس حملہ آوروں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگی۔

شوٹنگ سےاس واقع سے ایک ہی ہفتہ قبل ایک مسلح شخص نے کولوراڈو میں خاندانی منصوبہ بندی کے کلینک پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی تھی، جس واقع میں تین افراد ہلاک جب کہ نو زخمی ہوگئے تھے۔

اکتوبر میں، ایک مسلح شخص نے اوریگن کے ایک کالج میں گولیاں چلائیں جس واقع میں نو افراد ہلاک ہوئے؛ جب کہ جون میں ساؤتھ کیرولینا میں ایک سفید فام شخص نے گرجا گھر جانے والے افراد پر گولیاں چلائیں، جس واقعے میں نو سیاہ فام عبادت گزار ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG