رسائی کے لنکس

logo-print

اٹلی: تارکین وطن کی کشتی کا کپتان اور عملے کا رکن گرفتار


اٹلی کے وزیراعظم نے یورپ پر زور دیا ہے کہ وہ تارکین وطن خصوصاً لیبیا سے آنے والی کشتیوں پر نظر رکھیں اور مزید کشتیوں کو آنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

اٹلی میں حکام نے بتایا ہے کہ اختتام ہفتہ بحیرہ روم میں ڈوبنے والی کشتی کے کپتان اور عملے کے ایک رکن کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ ڈوبنے والوں کی تلاش کے لیے اب بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس واقعے میں جنگ سے تباہ حال ملک لیبیا سے راہ فرار اختیار کرنے والے لگ بھگ 900 افراد ڈوب چکے ہیں۔

استغاثہ کے نائب عہدیدار روکو لیگوری نے منگل کو کہا کہ تیونس سے تعلق رکھنے والے کشتی کے کپتان اور عملے کے ایک شامی رکن کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انھیں اس کشتی کے ذریعے سیسلی کی بندرگارہ پر لایا گیا جو 27 افراد کو بچا کر یہاں پہنچی تھی۔

ان دونوں پر غیر قانونی طور پر لوگوں کو منتقل کرنے جب کہ کپتان پر بہت سے افراد کے قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اٹلی کے وزیراعظم نے یورپ پر زور دیا ہے کہ وہ تارکین وطن خصوصاً لیبیا سے آنے والی کشتیوں پر نظر رکھیں اور مزید کشتیوں کو آنے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

مالٹا کے وزیراعظم کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ " ہمیں ایک ایسی منظم مجرمانہ سرگرمی کا سامنا ہے جس سے بہت پیسہ کمایا جا رہا ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ بہت سی زندگیوں کو تباہ کر رہی ہے۔"

انھوں نے اس سرگرمی کو گزشتہ صدیوں میں غلاموں کی تجارت کے مترادف قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG