رسائی کے لنکس

logo-print

'پیپلز پارٹی نے ہوشیاری سے گیند اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں پھینک دی'


تجزیہ کاروں کے بقول کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری اور آئی جی سندھ کے گھر کے گھیراؤ کے معاملے پر پیپلز پارٹی نے ہوشیاری اور عقل مندی سے کام لیا۔ اور اپنے پتے بہتر انداز میں کھیل کر گیند اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک جانب مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے بعد پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے، تو دوسری جانب سندھ حکومت نے پولیس افسران کو کام جاری رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

منگل کی شب سندھ میں برسرِ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے فوج سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور آئی جی سندھ سے ملاقات کے بعد بدھ کو وزیرِ اعلیٰ سندھ نے بھی صوبے کے اعلیٰ پولیس افسران سے ملاقات کی۔

وزیرِ اعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں آئی جی سندھ مشتاق مہر، ایڈیشنل آئی جیز اور ڈی آئی جی رینک کے دیگر افسران نے شرکت کی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ سندھ پولیس کی صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے بڑی قربانیاں ہیں جس کی وجہ سے یہاں امن بحال ہوا ہے۔ لہٰذا سندھ پولیس کا مورال نہیں گرنے دیں گے۔

کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر آئی جی سندھ کے گھر کے مبینہ گھیراؤ، انہیں مبینہ طور پر اغوا کر کے سندھ رینجرز کے دفتر میں احکامات پر دستخط کرانے پر مجبور کرنے اور ناروا رویے کی شکایت پر 50 سے زائد پولیس افسران نے طویل رخصت کی درخواستیں جمع کرائی تھیں۔

سیاسی تجزیہ کار اس اقدام کو پولیس کی جانب سے علامتی ہڑتال اور احتجاج سے تعبیر کر رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس سلسلے میں بہتر انداز میں کردار ادا کر کے معاملے کو ٹھنڈا کیا جب کہ بعض تجزیہ کار پیپلز پارٹی کی حکمتِ عملی کو داد دے رہے ہیں۔

احتساب سب کے لیے ہونا چاہیے: مریم نواز
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:53 0:00

'کونسل آف نیوز پیپرز ایسوسی ایشن' کے سیکرٹری جنرل اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر عبدالجبار خٹک کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ایک جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ تعاون کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ وہیں اسٹیبلشمنٹ سے اس واقعے پر کھل کر اظہارِ ناراضی بھی کیا۔ تب ہی آرمی چیف نے معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس معاملے پر اپنی غلطی بہر حال تسلیم کر لی ہے۔

دوسری جانب بعض سیاسی تجزیہ کار اور مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سارے واقعے میں وزیرِ اعظم کی جانب سے خاموشی اور اس معاملے سے کنارہ کشی ایک خطرناک رجحان ہے۔

وفاقی جامعہ اردو کراچی کے شعبۂ ابلاغ عامہ کے سابق صدر اور سیاسی مبصر ڈاکٹر توصیف احمد کے بقول اس معاملے میں وزیرِ اعظم کو کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ کیوں کہ آئی جی سندھ کی تقرری وفاق کرتا ہے لیکن اس اہم عہدے پر تعینات افسر کی ہتکِ عزت کے معاملے پر وزیرِ اعظم کی خاموشی اور فوج کا بیان جاری کرنا جمہوریت کے لیے نیک شگون نہیں۔

ڈاکٹر عبدالجبار خٹک کے مطابق اس بارے میں یہ بھی گمان کیا جاتا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے ذریعے سندھ رینجرز کو استعمال کرتے ہوئے آئی جی سندھ پر دباؤ ڈالا گیا۔ تاہم ان کے خیال میں حالات و واقعات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

اُن کے بقول پیپلز پارٹی نے ہوشیاری اور عقل مندی سے کام لیتے ہوئے اس معاملے کو ہینڈل کیا اور بہتر طریقے سے اپنے پتے کھیل کر گیند اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے کے ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی ہوتی ہے۔

ان کے مطابق اس معاملے نے ایک بار پھر اس بات کی اہمیت کو عیاں کیا ہے کہ ہر ادارے کو دوسرے کا احترام کرنا ہو گا اور انہیں اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنا ہو گا۔

ڈاکٹر توصیف کہتے ہیں کہ کیپٹن (ر) صفدر کی ڈرامائی گرفتاری کے معاملے پر پیپلز پارٹی کو سخت خفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

ان کے بقول بلاول بھٹو کا اصل ٹارگٹ تحریک انصاف کی حکومت اور بالخصوص وزیرِ اعظم عمران خان ہیں۔ لیکن اس معاملے میں انہوں نے سیاسی انداز سے خوبصورتی سے کھیلتے ہوئے وزیرِ اعظم کی بجائے فوج سے تحقیقات کا مطالبہ کیا اور اس معاملے میں عمران خان کو بالکل باہر رکھنے میں بھی کامیاب رہے۔

مبصرین کے مطابق اس طرح کے واقعات پولیس کی آزاد حیثیت پر سوالیہ نشان اور اس کی کارکردگی پر بھی منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ لیکن اس بار پولیس نے ہائی کمان کی تضحیک پر احتجاج کر کے ملک بھر میں ایک نیا پیغام دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق ایسے مسائل کا حل صرف یہی ہے کہ تمام ادارے ایک دوسرے کا احترام کریں۔ ایک دوسرے کے خلاف کام کرنے کی بجائے مل کر قومی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے کام کریں۔

سیاسی پنڈتوں کے مطابق یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ قیادت عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہوتی ہے جب کہ دیگر تمام ادارے آئین اور قانون کے تحت متعین راستے پر کام کرتے ہیں۔

'اپوزیشن نے اداروں کو لڑانے کی کوشش کی'

وفاقی وزیرِ اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ملک میں بے یقینی پھیلانا چاہتی ہے۔ اس واقعے کی آڑ میں اپوزیشن نے اداروں کو لڑانے کی کوشش کی ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں شبلی فراز نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے سندھ پولیس کے واقعے کو سیاسی بنا دیا۔ ملکی اداروں کی تباہی 40 سال سے ہو رہی تھی۔

ان کے بقول چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو چاہیے تھا کہ مزارِ قائد پر ہلڑ بازی کرنے والوں کی کھل کر مذمت کرتے۔

شبلی فراز نے کہا کہ عمران خان نے بہت پہلے کہا تھا کہ یہ سب لوگ اکھٹے ہوں گے۔ ہم اس وقت بھی اکیلے تھے اور اب بھی اکیلے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ (ن) لیگ کے بعض ارکانِ اسمبلی ان کی جماعت سے رابطہ کر رہے ہیں۔

سندھ بار کونسل کا سپریم کورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

ادھر سندھ بار کونسل نے واقعے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ درجنوں پولیس افسران کی جانب سے طویل رخصت کی درخواستیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ قانون کی حکمرانی مکمل طور پر تباہ حال جب کہ ملک میں غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے۔

سندھ بار کونسل کی منظور کردہ قرارداد کے مطابق اس قسم کی مداخلت سے حکومت اور عدلیہ کے ساتھ پاکستان کی مسلح افواج کا تاثر بھی عوام کی نظروں میں بری طرح متاثر ہو گا۔

بار کونسل نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اس معاملے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی فل کورٹ سماعت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG