رسائی کے لنکس

logo-print

کارٹر کی اردوان سے ملاقات، عراقی اقتدارِ اعلیٰ کا معاملہ زیر بحث


امریکی محکمہٴ دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے رہنماؤں نے وقتاً فوقتاً گفتگو اور قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاکہ داعش کے دہشت گرد گروپ سے نبرد آزما اتحاد داعش کو ’’دیرپہ شکست‘‘ دی جا سکے

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے جمعے کے روز شام اور عراق میں داعش کو شکست دینے کی کارروائی کے سلسلے میں دونو ں ملکوں کے درمیان فوجی تعاون میں اضافے کی ضرورت پر بات چیت کی۔

کارٹر جمعے کے روز انقرہ پہنچے، جہاں اُنھوں نے اردوان اور دیگر اعلیٰ ترک سیاسی اور دفاعی حکام سے ملاقات کی۔

امریکی محکمہٴ دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے رہنماؤں نے وقتاً فوقتاً گفتگو اور قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاکہ داعش کے دہشت گرد گروپ سے نبرد آزما اتحاد داعش کو ’’دیرپہ شکست‘‘ دی جا سکے۔

کارٹر کا دورہٴ ترکی ایسے وقت ہو رہا ہے جب ترکی عراق کے ساتھ کشیدگی کے معاملے پر پریشان ہے، جو داعش کے لڑاکوں سے عراقی شہر موصل کا قبضہ واگزار کرانے کی کارروئی جاری رکھے ہوئے ہے۔

کارٹر ایسے وقت ترکی کا دورہ کر رہے ہیں جب اُسے ترکی اور عراق کے مضافات میں کارروائی کے حوالے سے کشیدگی لاحق ہے، جس کارروائی کا مقصد داعش کے لڑاکوں سے عراق کے شہر موصل کا قبضہ واگزار کرانا ہے۔

ترکی اس بات کا خواہاں ہے کہ عراق کے دوسرے بڑی شہر کا قبضہ خالی کرانے کی لڑائی میں وسیع تر کردار ادا کرے۔ تاہم، عراق حکومت ترک فوجی مداخلت کا مخالف ہے اور امریکہ نہیں چاہتا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بڑھے جس سے وہ سمجھوتا ختم نہ ہوجائے، جس سے متحارب فرقہ وارانہ اور نسلی میلشیاؤں کو موصل سے باہر نکالا جائے گا۔

ترکی آمد سے قبل، کارٹر نے کہا کہ وہ ترکی پر زور دیں گے کہ عراق کے اقتدارِ اعلیٰ کی حرمت کا خیال رکھا جائے۔

ترک اور عراقی حکومتیں موصل کے شمال میں بشیقہ کیمپ پر ترک فوجوں کی موجودگی کے بارے میں لڑتے رہے ہیں، جہاں 500 گذشتہ دسمبر سے ترک فوجی سنی اور کُرد لڑاکوں کو تربیت فراہم کر رہے ہیں۔

حکومتِ عراق نے کہا ہے کہ فوجون کو اڈے پر موجود رہنے کی اجازت نہیں ہے اور اُنھیں وہاں سے چلا جانا چاہیئے، حالانکہ ترکی نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موصل کا قبضہ خالی کرانے کی کارروائی میں اس کے فوجی حصہ لیں گے۔

کارٹر نے ترک پارلیان کی عمارت کا بھی دورہ کیا جسے جولائی میں ہونے والی فوجی بغاوت کے دوران نقصان پہنچا تھا اور ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا، جنھوں نے ترک حکومت کا دفاع کرتے ہوئے جان دی۔

کارٹر کے الفاظ میں، ’’میں سمجھتا ہوں کی تمام لوگ اُن ہیروز اور شہدا کی تعظیم کرتے ہیں جو اُس دہشتناک واقعے میں ہلاک ہوئے۔ ہم قریبی دوست ہیں، آپ کے طویل مدتی اتحادی اور ترکی میں عظیم جمہوریت کے ٹھوس حامی ہیں۔‘‘

XS
SM
MD
LG