رسائی کے لنکس

logo-print

حسین حقانی کے خلاف 'پاکستان مخالف پروپیگنڈے' پر مقدمات درج


حسین حقانی (فائل فوٹو)

وائس آف امریکہ کے رابطہ کرنے پر ایک مدعی نے تصدیق کی کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں۔ مگر انہوں نے سرکاری ادارے کا نام اور اپنا عہدہ بتانے سے انکار کردیا۔

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلعے کوہاٹ کے تین مختلف تھانوں میں ایک جیسے تین مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

تینوں مقدمات پاکستان کے فوجداری قانون کے دفعات 121B اور 121A کے تحت درج کیے گئے ہیں جن میں حسین حقانی کے خلاف پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق سابق سفیر کے خلاف یہ مقدمات کوہاٹ کے تھانہ کینٹ میں شمس الحق ولد نواب خان، تھانہ سٹی میں حبیب الرحمن اور تھانہ بلی ٹنگ میں عزیز اللہ ولد محمد افضل کے مدعیت میں درج کیے گئے ہیں۔

تینوں مقدمات مدعیان کی جانب سے تحریری درخواستوں پر درج کیے گئے ہیں جن کا متن تقریباً ایک جیسا ہے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ سابق سفارت کار حسین حقانی نے امریکہ میں قیام کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرکے پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچایا ہے اور اپنی دو کتابوں میں پاکستان مخالف مواد شامل کیا ہے۔

درخواست گزاروں نے متعلقہ پولیس تھانوں سے ملزم حسین حقانی کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

حسین حقانی کے خلاف مقدمہ درج کرنے والے ایک مدعی شمس الحق نے وائس آف امریکہ کے رابطے پر مزید تفصیلات اور مقدمہ درج کرانے کے مقاصد بتانے سے گریز کیا۔

تاہم مدعی نے تصدیق کی کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں۔ مگر انہوں نے سرکاری ادارے کا نام اور اپنا عہدہ بتانے سے بھی انکار کردیا۔

کوہاٹ کے اعلٰی پولیس افسران بھی وائس آف امریکہ کی جانب سے بار بار رابطے کی کوشش کے باوجود مقدمات پر کسی قسم کے تبصرے سے انکاری ہیں۔

تاہم ایک پولیس پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ضابطے کی کارروائی کے مطابق ایف آئی آر درج کرنے کے بعد پولیس ملزم کو گرفتار کرکے اس کا چالان عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہے اور گرفتاری نہ ہونے کی صورت میں ملزم کو اشتہاری قرار دینے کے لیے عدالتی چارہ جوئی کرنا ہوگی۔

حسین حقانی نے اپنے ایک اخباری بیان میں اپنے خلاف مقدمات کے اندراج پر ردِ عمل میں کہا ہے، "لگے رہو منا بھائی! ایسے تماشوں سے پاکستان کا دنیا میں وقار نہیں بڑھے گا۔ پانچ سال پرانے نام نہاد مقدمے کا فیصلہ بھی نہیں آیا اور الزام لگانے والا غائب ہوگیا۔ میری مخالفانہ کتابوں اور دلائل کا جواب دیں۔ یہ کتابیں دنیا بھر کی جامعات میں پڑھائی جاتی ہیں۔ مقدمہ درج کرنے والے بھی پڑھ کر کچھ سیکھ لیں۔‘‘

خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ممتاز قانون دان لطیف آفریدی نے وائس آف امریکہ سے بات چیت میں حسین حقانی کے خلاف کوہاٹ میں درج کیے گئے مقدمات کو آئین اور قانون سے مذاق کے مترادف قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حسین حقانی نے امریکہ یا لندن کی کسی کانفرنس میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی ہے تو وہاں ہماری عدالتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دائرۂ اختیار نہیں اور نہ اس بنیاد پر ان کے خلاف مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے مقدمات درج کرنے کا مقصد لوگوں کو ڈرانا دھمکانا، اور ان کے سروں پر فوج اور عدلیہ کا بھوت سوار کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

حسین حقانی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے گزشتہ دورِ حکومت میں اپریل 2008ء سے نومبر 2011ء تک امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہے تھے۔ تاہم 2011ء میں سامنے آنے والے میمو گیٹ اسکینڈل کے بعد انہیں سیاسی اور عسکری حلقوں کے مبینہ دباؤ کے باعث اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

حسین حقانی کے خلاف میمو گیٹ اسکینڈل کی بنیاد پر بھی مختلف تھانوں میں اسی قسم کے مقدمات درج کیے گئے تھے لیکن یہ مقدمات بغیر کسی کارروائی کے داخلِ دفتر ہوچکے ہیں۔

حسین حقانی امریکہ ہی میں مقیم ہیں جہاں وہ وقتاً فوقتاً پاکستان کی فوج پر کڑی تنقید کرتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG