رسائی کے لنکس

امریکہ میں اسکول کھولنے کے لیے 'قابل عمل' سفارشات جاری کی جائیں گی


فائل فوٹو

امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ سینٹرز فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) اسکول کھولنے سے متعلق نئی رہنما ہدایات جاری کرے گا۔ اس سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ادارے پر تنقید کی تھی کہ اس کی سفارشات بہت مہنگی اور ناقابلِ عمل ہیں۔

ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں دوبارہ صدر کے انتخاب میں امیدوار ہیں۔ انہوں نے ڈیموکریٹس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سیاسی وجوہ پر اسکولوں کی بندش چاہتے ہیں اور کرونا وائرس کیسز میں اضافے کے باوجود دھمکی دی ہے کہ جو اسکول نہیں کھلیں گے، ان کی وفاق کی جانب سے فنڈنگ میں کٹوتی کر دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا کہ "میں اسکول کھولنے سے متعلق سی ڈی سی سے متفق نہیں جس کی سفارشات بہت سخت اور مہنگی ہیں۔ اگرچہ وہ چاہتے ہیں کہ اسکول کھلیں لیکن وہ ان سے ناقابل عمل چیزوں کا مطالبہ کررہے ہیں۔ میں ان سے ملاقات کروں گا۔"

مائیک پینس نے بدھ کو کہا کہ سی ڈی سی آئندہ ہفتے نیا بیان جاری کرے گا جس سے اس معاملے میں ہدایات زیادہ واضح ہوں گی۔ محکمہ تعلیم میں وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس کی بریفنگ کے دوران پینس کا کہنا تھا کہ صدر ان سفارشات کو بہت سخت نہیں دیکھنا چاہتے۔

سی ڈی سی کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے زور دیا کہ ادارے کی رہنما ہدایات کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر اور میرے ادارے کو بھی بہت مایوسی ہو گی اگر لوگ ان ہدایات کو بہانہ بنا کر اسکول نہ کھولیں۔

سی ڈی سی نے اسکولوں کے لیے متعدد سفارشات پیش کی تھیں جن میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ، طلبہ کو چھوٹے گروپس میں تقسیم کرنا، کیفے ٹیریا کے بجائے کلاسوں میں لنچ فراہم کرنا اور اسکولوں میں مشترکہ استعمال کی اشیا کی تعداد میں کمی شامل تھی۔

یہ مشورہ بھی دیا گیا تھا کہ طلبہ کی نشستوں میں کم از کم چھ فٹ کا فاصلہ ہونا چاہیے اور جہاں سماجی فاصلہ ممکن نہ ہو، وہاں درمیان میں رکاوٹ موجود ہو۔

انتظامیہ کے حکام کہتے ہیں کہ مقامی رہنما اسکول کھولنے سے متعلق اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔

وزیر تعلیم بیٹسی ڈییووس نے کہا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ اسکول کھلیں گے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ انھیں کیسے کھولا جائے۔ تمام اسکولوں کو مکمل طور پر کھلنا چاہیے۔

امریکی آئین کے تحت ریاستیں پرائمری اور ثانوی تعلیم کی ذمے دار ہیں۔ ملک بھر میں کرونا وائرس کیسز میں اضافے کے باعث تشویش کی شکار کچھ ریاستوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ اسکول کب اور کیسے کھلیں گے۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر کہا کہ ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ اگر اسکول نومبر کے الیکشن سے پہلے کھلے تو انھیں سیاسی طور پر نقصان ہوگا لیکن ایسا ہونا بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ضروری ہے۔ اسکول نہ کھلے تو ان کی فنڈنگ میں کٹوتی کی جاسکتی ہے۔

مائیک نے تسلیم کیا کہ اسکولوں کی فنڈنگ کا بڑا حصہ ریاستیں فراہم کرتی ہیں لیکن یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کانگریس کے ساتھ مل کر کوشش کرے گی کہ ریاستوں کو اسکول کھولنے کی ترغیب دی جائے اور اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کی جائے۔

انھوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ بچوں کو اسکول واپس بھیجا جائے۔

وفاقی انتظامیہ اسکولوں کو کچھ رقوم فنڈنگ کرتی ہے جس میں کانگریس کے ذریعے دی جانے والی رقوم شامل ہیں۔ اسکولوں کی فنڈنگ روکنے کی کوشش میں رکاوٹیں آسکتی ہیں کیونکہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے۔

وزیر محنت یوجین اسکیلیا نے کہا کہ امریکی معیشت کی بحالی کے لیے اسکولوں کا کھلنا ضروری ہے۔ کاروباری اور کنزرویٹو گروپس کہہ چکے ہیں کہ والدین کو کام پر واپس آنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ وہ ریاستوں کے گورنروں پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ موسم خزاں میں اسکول کھولیں۔

لیکن امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز کے ساتھ یہ تشویش بھی بڑھی ہے کہ بچے نہ صرف اپنے گھر کے بڑوں کو بلکہ اساتذہ اور اسکول کے معمر عملے کو بھی وائرس میں مبتلا کرسکتے ہیں۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا اسکولوں پر کوئی اختیار نہیں اور ان کی ریاست اسکول کھولنے سے متعلق اپنے منصوبوں کا اعلان اگست کے پہلے ہفتے میں کرے گی۔

ان کی پڑوسی ریاست نیوجرسی کے گورنر فل مرفی کا کہنا ہے کہ وہ موسم خزاں میں اسکول کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اگر زندگیاں بچانے کے لیے ضروری ہوا تو اس فیصلے کو بدلنے کا حق رکھتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG