رسائی کے لنکس

logo-print

آن لائن کلاسز لینے والے غیر ملکی طلبہ کو امریکہ چھوڑنا ہو گا: محکمہ امیگریشن


فائل فوٹو

امریکہ کے وفاقی محکمہ امیگریشن ایند کسٹم نے غیر ملکی طلبہ سے متعلق ایک ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق آن لائن کلاسز لینے والے غیر ملکی طلبہ کو امریکہ چھوڑنا ہو گا۔

پیر کو جاری کردہ ہدایت نامے میں کالجز کو کہا گیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے خدشے کے باوجود تعلیمی سال کا آغاز کریں۔

امریکہ میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسز کا آغاز کیا تھا جس سے غیر ملکی طلبہ بھی مستفید ہو رہے تھے۔

​تاہم اب محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ اُن طلبہ کے ویزا کی تجدید نہیں کی جائے گی جو امریکہ میں رہتے ہوئے آن لائن کلاسز لے رہے ہیں اور ایسے طلبہ پر آن لائن کلاسز لینے پر بھی پابندی ہو گی۔

بعض کالجز غیر ملکی طلبہ کو آن لائن کے ساتھ ساتھ کالج آ کر کلاسز لینے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔

محکمہ امیگریشن کے نئے ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی طلبہ کو ذاتی حیثیت میں بعض کلاسز لینا لازم ہو گا۔

محکمہ امیگریشن کے مطابق مکمل طور پر آن لائن کلاسز آفر کرنے والے کالجز میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ کو کسی اور کالج میں منتقل ہونے پر مجبور کیا جائے گا۔

محکمہ امیگریشن کی جانب سے کالجز کو ہدایت نامہ ایسے موقع پر موصول ہوا ہے جب ہارورڈ یونیورسٹی سمیت بعض دیگر کالجز نے اعلان کیا ہے کہ وہ طلبہ کو کیمپس آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

محکمہ امیگریشن کے نئے ہدایت نامے نے ہزاروں غیر ملکی طلبہ کو مشکل میں ڈال دیا ہے جو کرونا وائرس کی وجہ سے موسمِ بہار سے امریکہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

امریکہ کے درجنوں کالجز نے نئے تعلیمی سال کے دوران ذاتی حیثیت میں کالج آ کر کلاسز لینے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم ہاورڈ یونیورسٹی نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ فرسٹ ٹرمپ کے طلبہ کو کیمپس میں بلائیں گے لیکن تمام کلاسز آن لائن ہی ہوں گی۔

گزشتہ ہفتے یونیورسٹی آف سادرن کیلی فورنیا نے طلبہ کی کلاسز کے منصوبے کا اعلان واپس لیتے ہوئے کہا تھا کہ تمام کلاسز آن لائن ہی ہوں گی۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں اسکول اور یونیورسٹیوں میں جتنا جلدی ممکن ہو تعلیمی سلسلے کو بحال کیا جائے۔

محکمہ امیگریشن کی جانب سے ہدایت نامے کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ تمام اسکول رواں موسم خزاں میں لازمی کھلنے چاہییں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈیموکریٹس اسکولوں کو بند رکھنا چاہتے ہیں اور وہ ایسا عوام کی صحت کے لیے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے کرنے کے خواہاں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ اسکولوں کی بندش سے انہیں رواں برس نومبر میں صدارتی انتخابات میں فائدہ ہو گا لیکن وہ غلط ہیں۔

دوسری جانب امریکن کونسل آن ایجوکیشن کے سینئر نائب صدر ٹیری ہارٹل کا کہنا ہے کہ محکمہ امیگریشن کے نئے ہدایت نامے نے ان کالجز کو الجھن میں ڈال دیا ہے جو نئے تعلیمی سال کی تیاریاں کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ایک طالب علم اپنا تعلیمی سال ادھورا چھوڑتا ہے تو اسے سفری پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹیری ہارٹل نے مزید کہا کہ امریکن کونسل آن ایجوکیشن تعلیمی اداروں کو کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے چاہے کرونا وائرس کی وجہ سے جو بھی حالات ہوں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG