رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ کی چین کو واپسی کی انیسویں سالگرہ، مظاہرین کا احتجاج


سالگرہ کے موقع پر بڑی تعداد میں مظاہرہ کرنے والوں کے دو مقاصد تھے ایک تو لیونگ کو دوسری بار چیف ایگزیکٹو بننے سے روکنا اور دوسرا ہانگ کانگ کی کم ہوتی ہوئی خود مختاری کے خلاف احتجاج کر نا۔

ہانگ کانگ کی برطانیہ سے چین کی واپسی کی انیسویں سالگرہ کے موقع پر جمعہ کو ہانگ کانگ میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔

ایک طرف ہانگ کانگ میں پرچم کشائی کی ایک سرکاری تقریب منعقد کی گئی جس میں سرکاری عہدیداروں اور تقریباً ایک ہزار شہریوں نے شرکت کی، دوسری طرف ایک بڑی تعداد میں لوگ ایک احتجاجی مارچ میں شرکت کے لیے جمع ہوئے۔

ہانگ کانگ میں رہنے والے کئی افراد چین کی حکومت کی طرف سے ہانگ کانگ کی انتظامیہ کی نگرانی کے عمل کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کا خیال میں ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو لیونگ چن ینگ بیجنگ کے زیر اثر ہیں۔

سالگرہ کے موقع پر ہانگ کانگ میں بڑی تعداد میں مظاہرہ کرنے والوں کے دو مقاصد تھے ایک تو لیونگ کو دوسری بار چیف ایگزیکٹو بننے سے روکنا اور دوسرا ہانگ کانگ کی کم ہوتی ہوئی خود مختاری کے خلاف احتجاج کر نا۔

ہانگ کانگ کے پانچ مقامی کتاب فروشوں کی گرفتاری کے معاملے سے ہانگ کانگ کی خود مختاری کی کمی کی عکاسی ہوتی جنہیں گرفتار کرنے کے بعد چینی حکام نے چین میں کئی ماہ تک حراست میں رکھا۔

ان بک سیلرز میں سے ایک لام ونگ کی، جو حال میں ہانگ کانگ واپس آئے ہیں، نے بتایا کہ انہیں سات ماہ کے دران قید تنہائی میں رکھا گیا اور انہیں تفتیش کے دوران ذہنی تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ وہ بھی جمعہ کو ہونے والی مارچ کی قیادت کر نا چاہتے تھے تاہم اپنی حفاظت کے متعلق تشویش کے وجہ سے انھوں نے اس میں شرکت نہیں کی۔

دوسری طرف سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی پرچم کشائی کی تقریب میں چیف ایگزیکٹو لیونگ نے کہا کہ "ہم ایک ملک اور دو نظام کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھیں گے، (جس میں) ہانگ کانگ کے لوگ ہانگ کانگ کے انتظام کے ذمہ دار ہیں اور (جس میں) بنیادی قانون کے مطابق زیادہ خود مختاری حاصل ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت معیشت کو فروغ دینا اور (ہانگ کانگ کے) مکینوں کی زندگی کو بہتر بنانا جاری رکھے گی۔

XS
SM
MD
LG