رسائی کے لنکس

طلبہ کے کوائف حساس اداروں کو دینے کی خبروں پر اظہارِ تشویش


رضا ربانی (فائل فوٹو)

بدھ کو لکھے گئے اپنے خط میں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وہ یہ خط اپنی ذاتی حیثیت سے ایک شہری کے طور پر تحریر کر رہے ہیں نہ کہ بطور چیئرمین سینیٹ۔

پاکستان کے ایوان بالا 'سینیٹ' کے چیئرمین میاں رضا ربانی نے کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو لکھے گئے ایک خط میں ان اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ جامعہ اپنے طلبہ کے کوائف انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فراہم کرے گی۔

ایک روز قبل مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ گزشتہ ہفتے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن پر ہونے والے ناکام قاتلانہ حملے میں مبینہ طور پر جامعہ کراچی کا ایک طالب علم ملوث تھا اور اسی بنا پر یونیورسٹی نے طلبہ کی جانچ پڑتال کے لیے حساس اداروں کو ان کے کوائف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کو لکھے گئے اپنے خط میں رضا ربانی نے کہا ہے کہ وہ یہ خط اپنی ذاتی حیثیت سے ایک شہری کے طور پر تحریر کر رہے ہیں نہ کہ بطور چیئرمین سینیٹ۔

ان کے بقول یہ اطلاعات کہ یونیورسٹی کے طلبہ کا ریکارڈ حساس اداروں کو پیش کیا جائے گا اور طلبہ کو داخلے کے لیے متعلقہ پولیس تھانے سے کریکٹر سرٹیفیکٹ بھی حاصل کرنا ہوگا، انتہائی اضطراب کا باعث ہیں۔

رضا ربانی نے لکھا ہے کہ یہ دونوں ادارے "ریاست کی سخت تصویر ہیں، جن سے رابطے کے باعث طلبہ میں بے چینی بڑھے گی۔"

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں انتہا پسندی اور تشدد روکنے کے لیے اقدام کرنا ہوں گے اور اس کے لیے نصاب کا از سرِ نو جائزہ لیا جائے اور سینیٹ کی قرارداد کے مطابق طلبہ یونینز کو بحال کیا جائے۔

چیئرمین سینیٹ نے امید ظاہر کی کہ وائس چانسلر ان کا نقطۂ نظر انتظامیہ تک پہنچائیں گے اور اس کی روشنی میں بہتر فیصلہ کریں گے۔

کراچی یونیورسٹی نے طلبہ کا ریکارڈ سکیورٹی اداروں کو دینے اور اس کی پولیس سے تصدیق کرانے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG