رسائی کے لنکس

logo-print

چکوال: غیر سرکاری نتائج، مسلم لیگ ن کے امیدوار کامیاب


پنجاب اسمبلی حلقہ پی پی 20 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار نے اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرلی ہے، جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار دوسرے نمبر پر رہے۔

چکوال انتخابات میں پہلی مرتبہ کسی حلقہٴ انتخاب میں رائے دہی میں شریک خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ رہی۔

پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 20 چکوال کے ضمنی انتخاب کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق، مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری حیدر سلطان 75 ہزار 934 ووٹ لے کر پہلے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار طارق افضل 46 ہزار 25 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس طرح ن لیگ کے امیدوار نے 29 ہزار 909 ووٹوں کی برتری حاصل کی۔

چکوال کے ضمنی انتخاب میں دو لاکھ 79 ہزار 530 ووٹرز کے لیے 227 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے، جن میں ایک لاکھ 44 ہزار مرد اور 1 لاکھ 35 ہزار خواتین ووٹرز شامل تھے، اس انتخاب میں ایک لاکھ 39 ہزار308 مرد و خواتین نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ایک ہزار 829 ووٹ نتائج میں شامل نہیں کیے گئے۔ ووٹنگ کی شرح50.49 فیصد رہی۔

انتخابات میں سب سے دلچسپ بات ’تحریک لبیک یارسول اللہ‘ کے امیدوار کے ووٹوں کی تعداد تھی جو اس الیکشن میں ماضی کے دیگر حلقوں کے مقابلہ میں ایک بار پھر بڑھی؛ اور تحریک لبیک کے امیدوار چوہدری ناصر عباس نے 16 ہزار576 ووٹ حاصل کیے۔

اس حلقہ میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ(ق) اور پاکستان عوامی تحریک نے اپنا کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔ لیکن، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کو ان تینوں پارٹیوں کی خاموش حمایت حاصل تھی۔ لیکن، اس کے باوجود کامیابی مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کے حصہ میں آئی۔

اس الیکشن میں ایک اور دلچسپ امر بھی سامنے آیا جہاں خواتین کے پول کردہ ووٹوں کی تعداد مردوں سے زیادہ رہی ہے۔ حلقہ میں مردوں نے 70 ہزار543 جبکہ خواتین کی تعداد 70 ہزار 594 رہی۔ اس طرح 51 خواتین نے مردوں سے زیادہ ووٹ کاسٹ کیے۔

نتائج سامنے آتے ہی چکوال شہر میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے آتش بازی شروع کر دی۔

اس سے قبل، چکوال کے حلقہ پی پی 20 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ صبح وقت پر ہی شروع ہوگئی تھی، جو شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی؛ جب کہ پولیس، رینجرز اور پاک فوج کے جوانوں نے سیکیورٹی کے فرائض سرانجام دیے۔ یہ الیکشن مکمل طور پر پرامن رہے اور کسی بھی پولنگ سٹیشن پر لڑائی یا ہنگامہ آرائی کا کوئی معمولی واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔

الیکشن کمیشن نے 45 پولنگ اسٹیشنوں کو ’’انتہائی حساس‘‘ اور 82 کو ’’حساس‘‘ قرار دیا تھا؛ جب کہ 1800 سے زائد انتخابی عملہ تعینات کیا گیا، 45 انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنر پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے گئےاور آزمائشی بنیاد پر ووٹرز کی بائیومیٹرک تصدیق بھی کی گئی۔

حلقہ پی پی 20 ضمنی انتخاب میں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر نے 4 جنوری کو حمزہ شہباز، میجر طاہر اقبال اور دیگر کی طرف سے ن لیگی امیدوار کی سلطان حیدر کی مہم چلانے پر ضابطہٴ اخلاق کی خلاف وزری کا نوٹس جاری کیا اور ان پر 50 ہزار جرمانہ عائد کر دیا؛ جبکہ الیکشن سے ایک روز قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کے تعزیت کے لیے آنے اور جلسہ کرنے پر بھی مسلم لیگ(ن) کے امیدوار کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی چوہدری لیاقت علی خان کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی۔ 2013 میں (ن) لیگ نے یہ نشست 32 ہزار ووٹوں کی برتری سے جیتی تھی۔

الیکشن جیتنے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک ٹوئیٹ میں حلقے کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG