رسائی کے لنکس

انتخابی حلقہ بندیوں کے معاملہ پر حکومت اور حزب مخالف کے درمیان اتفاق رائے


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات

حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں نے پاکستان میں رواں سال ہونے والی قومی مردم شماری کے بعد ملک میں نئی حلقہ بندیوں کے معاملہ پر اتفاق کر لیا ہے۔

سرکاری میڈیا پر جاری ہونے والے ایک یبان کے مطابق یہ اتفاق رائے پارلیمان کی ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پارلیمانی راہنماؤں کی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے جمعے کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں طے پایا ہے۔

سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق اور دیگر پارلیمانی جماعتوں کے راہنماؤ ں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیراعظم نے مردم شماری اور حلقہ بندیوں سے متعلق حزب مخالف کی جماعتوں کے تحفطات کو دور کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزب مخالف کی تجویز پر پانچ فیصد مردم شماری کے لیے بنائے گئے بلا ک کی مردم شماری کا دوبارہ آڈٹ کیا جائے گا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل پر آئندہ ہفتے سینیٹ میں ووٹنگ ہو گی اور وہ تمام جماعتیں جن کا حلقہ بندیوں کے معاملے سے متعلق تحفظات تھے وہ اس ووٹنگ میں حصہ لیں گی۔

واضح رہے کہ ملک میں رواں سال ہونے والے مردم شماری کے بعد آئندہ عام انتخابات سے قبل نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں لیکن پیپلزپارٹی سمیت بعض دیگر جماعتوں کو اس مردم شماری کے سامنے آنے والے عبوری نتائج پر تحفظات کی وجہ سے یہ معاملہ تعطل کا شکار رہا۔

واضح رہے کہ پاکستانی پارلیمان کی ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی کا بل دو تہائی اکثریت سے نومبر میں منظور کر چکی ہے۔ تاہم یہ بل ایوان بالا سے منظور نہیں ہو سکا اور اس بارے میں تین دفعہ منعقد ہونے والے سینیٹ کے اجلاسوں میں بغیر کسی پیش رفت کے مختلف وجوہات کی بنا پر اس مجوزہ ترمیم پر رائے شماری نہیں کی جا سکی۔

حکومت کے علاوہ الیکشن کمیشن بھی یہ کہہ چکا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں ضروری ہیں اور اس میں تاخیر سے آئندہ عام انتخابات التوا کا شکار ہو سکتے ہیں۔

دوسری طرف وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں انتظامی اصلاحات کے بل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے پر حزب مخالف کی جماعتیں حکومت پر تنقید کرکے متعدد بار ایوان سے واک آوٹ بھی کر چکی ہیں اور وزیر اعظم کی طرف سے پارلیمانی جماعتوں کو اس معاملے پر اعتماد میں لینے کی اطلاعات سامنے آرہی تھیں تاہم بتایا جاتا ہے کہ جمعےکو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی سینیٹ میں پارلیمانی جماعتوں کے راہنماؤں کے ساتھ ہونے والے ملاقات میں اس معاملہ پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

تاہم حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ حکومت اور حزب مخالف کے درمیان فاٹا اصلاحات کے معاملے پرجلد ایک اجلاس منعقد ہو گا۔

فاٹا میں اصلاحات سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری وفاقی کابینہ پہلے ہی دے چکی ہے تاہم اس بارے میں قانونی سازی کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG