رسائی کے لنکس

logo-print

چمن: بم دھماکہ، جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما سمیت تین افراد ہلاک


فائل

پاکستان کے سرحدی شہر، چمن میں ایک بم حملے میں جمعیت علما اسلام فضل الرحمان گروپ کے مرکزی رہنما سمیت تین افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے ایک اہلکار محمد اقبال نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ہفتے کی شام کو مولانا محمد حنیف چمن بازار کے تاج روڈ پر واقع اپنی پارٹی کے دفتر سے نکل کر گاڑی میں بیٹھ رہے تھے، عین اسی وقت اُن کی گاڑی کے قریب کھڑی موٹر سائیکل میں ریموٹ کنٹرول سے زوردار دھماکہ کیا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ اس دوران ایک گاڑی میں آگ لگ گئی۔

زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال چمن منتقل کیا گیا جہاں دو زخمیوں نے طبی امداد ملنے سے قبل دم توڑ دیا، جبکہ مولانا محمد حنیف کو تشویشناک حالت کے باعث کوئٹہ روانہ کیا گیا۔ تاہم، کوئٹہ پہنچنے سے پہلے ہی انہوں نے راستے میں دم توڑ دیا۔

پولیس کے مطابق، زخمیوں میں زیادہ تعداد جمعیت علما اسلام فضل الرحمان گروپ کے کارکنوں کی ہے۔

سول اسپتال چمن کے سربراہ، ڈاکٹر محمد اختر نے وی او اے کو بتایا کہ ’’جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا محمد حنیف اسی فیصد آگ سے اور بیس فیصد بم کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوگئے تھے‘‘۔ ڈاکٹر اختر کے بقول، ’’دھماکے کے بعد اسپتال میں بیس زخمی لائے گئے تھے‘‘۔

مولانا محمد حنیف جمعیت علما اسلام فضل الرحمان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھے۔ وہ شروع سے جے یو آئی ف کے ساتھ وابسطہ رہے۔ تاہم، چند سال پہلے جے یو آئی ف سے وہ افغان طالبان کی کُھل کر حمایت نہ کرنے کی بنیاد پر علحیدہ ہوگئے تھے اور ’جے یو آئی نظریاتی‘ کے نام سے الگ پارٹی تشکیل دے دی تھی۔ لیکن، تین سال پہلے وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جے یو آئی ف میں دوبارہ شامل ہوگئے تھے۔

مولانا محمد حنیف نے 2018 کے انتخابات میں قلعہ عبداللہ، چمن سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑا تھا۔ تاہم، وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔

مولانا محمد حنیف کا چمن میں ایک مدرسہ بھی تھا جس میں سیکڑوں طلبا زیر تعلیم تھے۔ نظریاتی حوالے سے وہ افغان طالبان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے تھے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں تین ماہ کے دوران افغان طالبان کے قریب سمجھے جانے والے یہ ساتویں عالم دین ہیں، جن کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

جمعیت علما اسلام کے سربراہ، مولانا فضل الرحمان نے مولانا محمد حنیف پر بم حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جے یو آئی کی قیادت کو نشانہ بنانا گہری سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’حکومت اپنے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوگئی ہے‘‘۔

مولانا حنیف کی ہلاکت کے خلاف جے یو آئی کوئٹہ کے کارکنوں نے سول اسپتال کے سامنے کے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے دھماکہ کرنے والوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں یہ ساتواں دھماکہ ہے جس میں 19 افراد زندگی کی بازی ہار چکے اور 100 سے زائد زخمی ہیں۔

جے یو آئی (ف) کے مطابق، اتوار کو صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔

دریں اثنا، صدر مرکزی انجمنِ تاجراں نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کو چمن شہر میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال ہوگی، جس دوران تمام چھوٹی بڑی مارکیٹ اور کاروبار بند رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG