رسائی کے لنکس

logo-print

امن مذاکرات میں طالبان کی شرکت کا امکان کم ہے: تجزیہ کار


دیگر سخت گیروں کی جگہ بطور نئے امیر ملا ہیب اللہ اخونزادہ کا انتخاب، جن میں حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی بھی شامل ہیں، اس سوچ کو تقویت دیتا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے معاملے پر، ہو سکتا ہے کہ شدت پسند گروپ اپنا انداز بدلنا چاہتا ہو

طالبان امیر ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت اور گروپ کے نئے قائد کا انتخاب افغان امن عمل کے لیے خاص معاون ثابت نہیں ہوگا۔ یہ بات واشنگٹن میں موجود تجزیہ کاروں نے ’وائس آف امریکہ‘ کی افغان سروس کو بتائی ہے۔

دیگر سخت گیروں کی جگہ بطور نئے امیر ملا ہیب اللہ اخونزادہ کا انتخاب، جن میں حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی بھی شامل ہیں، اس سوچ کو تقویت دیتا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کے معاملے پر ہو سکتا ہے کہ شدت پسند گروپ اپنا انداز بدلنا چاہتا ہو۔

مائیکل اوہنلون ’بروکنگز انسٹی ٹیوشن‘ میں ’سینٹر فور 21سٹ سنچری سکیورٹی اینڈ انٹیلی جنس‘ کے شریک سربراہ ہیں۔ بقول اُن کے، ’’پالیسی کے اعتبار سے، ہمیں بہتری کی امید رکھنی چاہئیے، لیکن، زیادہ کی توقع نہ رکھنی جائیے، توقعات کو مناسب سطح پر ہی رکھا جائے، ساتھی ہی کوئی دیگر حکمت عملیاں نہ اپنائی جائیں، جن کی بنیاد امن بات چیت کے بارے میں ناامیدی سے ہو‘‘۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر آپ مجھ سے کہیں کہ میں کوئی پیش گوئی کروں، تو میں یہی کہوں گا کہ یہ کوشش کامیاب ہوگی، جس کی وجہ یہ ہے کہ اِس فرد کی اتفاق رائے سے فوری منظوری دی گئی جب کہ جتھے میں بہت سے سخت گیر موجود تھے‘‘۔

لیزا کرٹس ’ہیرٹج فاؤنڈیشن‘ میں ایشیائی مطالعے کے مرکز کی سینئر رسرچ فیلو ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اُن کے خلاف خطے میں امریکی حکمت عملی طالبان کی جانب سے مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادگی پر منحصر ہے۔

کرٹس کے بقول، ’’میرے خیال میں اگر امریکہ طالبان رہنماؤں کو پاکستان میں محفوظ ٹھکانے نہ دینے کی اِسی حکمت عملی پر عمل پیرا رہتا ہے، تو وقت گزرنے کے ساتھ بطور ایک مربوط لڑاکا فورس، اس سے طالبان کی صلاحیت پر اثر پڑے گا، اور وہ مکالمے کی جانب آنے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔‘‘

پاکستان اور انتہا پسند گروپ
امریکہ نے پاکستان کو اپنے علاقے میں انتہاپسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف اقدام کرنے کی مزید ترغیب دی ہے۔

کرٹس کے خیال میں اس ضمن میں پاکستان سے امریکی مایوسی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

کرٹس کے الفاظ میں، ’’میرے خیال میں امریکہ نے بالآخر یہ کہہ دیا ہے کہ ہم نے اس عمل کو ایک موقعہ دیا ہے۔ پاکستان نے طالبان کے خلاف طاقت استعمال کرنے پر آمادگی کا اظہار نہیں کیا، اس لیے امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ طالبان قیادت کے خلاف خود اقدام کرے، جو مذاکرات کی میز پر آنے پر تیار نہیں تھے‘‘۔

ایک طویل عرصے سے پاکستان یہ دلیل دیتا آیا ہے کہ اُس کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف کافی کارروائی کی جاچکی ہے۔

منصور کی ہلاکت

جیسن کیمپ بیل ’رینڈ کارپوریشن‘ میں معاون پالیسی تجزیہ کار ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اس میں مختلف مفادات اور فریق ملوث ہیں۔ اس لیے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہوگا کہ امریکہ منصور کا پیچھا کرنے میں کیسے کامیاب رہا، جن کے خلاف کامیاب ڈرون حملہ کیا گیا۔

کیمپ بیل کے بقول، ’’بہت سی چمہ گوئیاں ہو رہی ہیں، چونکہ وہ پاکستان کے مفادات سے بالکل جڑا ہوا تھا، اور شاید منصور کو نشانہ بنانے میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی، آئی ایس آئی اور امریکہ کے درمیان کوئی گٹھ جوڑ تھا‘‘۔

منصور کے خلاف حملہ پاکستانی سرزمیں پر دوسری بڑی شخصیت کو ہدف بنانے کے مترادف ہے، جس سے قبل مئی 2011ء میں امریکی نیوی سیلز نے اسامہ بن لادن کو نشانہ بنایا تھا۔

کرٹس نے بن لادن کی ہلاکت پر منتج ہونے والی اس کارروائی کے حوالے سے پاکستان کے ردِ عمل کے بارے میں دھیان مبذول کرایا۔

کرٹس کے بقول، ’’مثال کے طور، اُنھوں نے پانچ سال قبل اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے لیے مارے جانے والے امریکی چھاپے کی طرح سخت ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا، ہم نے نہیں دیکھا کہ پاکستانیوں نے اُسی درجے کی غم و برہمی دکھائی ہو‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ منصور کی قربت کو دیکھتے ہوئے، اس بات پر شبہ ہے کہ پاکستان نے اُن کو منظر سے ہٹانے میں کردار ادا کیا ہو۔

XS
SM
MD
LG