رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد شراب کی دکانوں کے باہر طویل قطاریں


بھارت میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 40 روز سے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان ہوتے ہی شراب کی دکانوں پر ہزاروں افراد کی قطاریں لگ گئیں۔

گاہکوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ لوگوں میں افراتفری پھیل گئی جسے کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔

بھارتی حکومت نے پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے بعض دفاتر اور دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی ہے جس میں شراب کی دکانیں بھی شامل ہیں۔

مختلف ریاستوں کے رہنماؤں کی جانب سے زور دیا جا رہا تھا شراب کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی جائے۔ کیوں کہ یہ ٹیکس وصولی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور اس سے بڑے پیمانے پر آمدنی ہوتی ہے۔

پیر کو لاک ڈاؤن میں نرمی ہوتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد نے شراب کی دکانوں کا رخ کیا۔

پولیس نے پہلے ہی سماجی دوری برقرار رکھنے کے لیے دکانوں کے آگے چاک سے دائرے بنا دیے تھے لیکن خریداروں کی بھیڑ اتنی زیادہ تھی کہ لوگوں نے سوشل ڈسٹینسنگ کو نظر انداز کر دیا۔

صبح سے ہی مختلف شہروں میں واقع شراب کی دکانوں پر لوگوں کا رش لگا رہا۔ کولکتہ میں شراب کی دکان کے باہر قطار میں موجود ایک شخص نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ انہوں نے ایک ماہ سے شراب نہیں پی مگر اب لگتا ہے کہ الکوحل ہمیں وبائی مرض کے دوران معاشرتی دوری برقرار رکھنے کے لیے تقویت بخشے گا۔

ہجوم پر قابو پانے کے لیے دہلی اور دیگر کئی شہروں میں پولیس نے گاہکوں پر لاٹھی چارج کیا۔ ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں جیسے ہی گاہکوں کا رش بڑھنے لگا پولیس نے شراب کی دکانیں بند کرا دیں جس پر پولیس اور خریداروں میں جھڑپیں بھی ہوئیں۔

پولیس نے کئی گھنٹے بعد صرف ماسک پہننے والے گاہکوں کو ہی ان دکانوں سے شراب کی خریداری کی اجازت دی۔ تاہم اس دوران سیکڑوں لوگ دکانوں کی اطرافی گلیوں میں گھنٹوں تک شراب کے آسرے میں ادھر ادھر بھٹکتے رہے۔

تیس سالہ دیپک کمار نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ انہیں گھر پر کوئی ضروری کام نہیں اس لیے وہ اطمینان کے ساتھ ایک گلی میں دکانیں دوبارہ کھلنے کا انتظار کرتے رہیں گے۔

ساگر نامی ایک گاہک نے بتایا کہ وہ صبح ساڑھے سات بجے ہی دکان پر پہنچ گئے تھے، اس وقت صرف 20 سے 25 گاہک وہاں موجود تھے جس کی وجہ سے ان کا نمبر بہت جلدی آگیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو خوش قسمت قرار دیا کیوں کہ دو گھنٹے بعد ہی یہ دکان بند کرا دی گئی تھی۔

مہاراشٹرا سمیت کچھ ریاستوں میں شراب کی دکانیں اجازت ملنے کے باوجود بند رہیں جب کہ ریاست آسام میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے پہلے دن شراب کی تمام دکانیں کھلی رہیں۔

بھارت کی کئی ریاستوں میں غیر قانونی طریقے سے بھی شراب کی خرید و فروخت ہوتی ہے جن میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات بھی شامل ہے۔ جہاں گزشتہ چند برسوں کے دوران الکوحل استعمال کرنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی کی انتظامیہ نے منگل سے شراب کی فروخت پر 70 فی صد اسپیشل کرونا وائرس ٹیکس بھی عائد کر دیا ہے۔ ریاستی حکومتی کا مؤقف ہے کہ عالمی وبا سے بری طرح متاثر ہونے والی آمدنی کو بڑھانے کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔

بھارتی حکومت نے کووڈ 19 کیسز کی تعداد پر قابو پانے کے لیے مارچ کے آخر سے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد سے تمام سرگرمیاں ماندھ پڑ گئی تھیں۔

بھارت کی ایک ارب 30 کروڑ آبادی میں 42 ہزار 500 افراد کرونا وائرس سے متاثر ہیں جب کہ اب تک تقریبا 1400 مریض دم توڑ چکے ہیں۔

طویل لاک ڈاؤن کے سبب بھارت میں اب تک لاکھوں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں اور ایشیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

حکومت کی جانب سے گزشتہ ہفتے صنعتی اور زرعی شعبے میں نرمی کا اعلان کیا گیا تھا جب کہ پیر کو ایک تہائی دفاتر اور کچھ دکانوں کو کام کرنے کے اجازت دے دی گئی تھی جن میں شراب کی دکانیں بھی شامل تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG