رسائی کے لنکس

اس قبیلے کے ایسے بچے جو سات سال کے ہو جاتے ہیں 'چاؤموس' کے دوران انھیں پہلی مرتبہ کالاش کا روایتی لباس پہنا کر اس مذہب میں شامل کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں آباد کالاش قبیلے کے چار تہواروں میں سب سے اہم تصور کیا جانے والا تہوار 'چاؤموس' پاکستان کے شمال میں واقع تین وادیوں پر مشتمل کالاش کے علاقے میں جاری ہے۔

تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والا 'چاؤموس' تہوار اس قبیلے کی روایت کے مطابق انتہائی مقدس مذہبی رسومات و عبادات ادا کرنے کے علاوہ شادی بیاہ کا بھی ایک اہم موقع ہوتا ہے۔

دنیا میں اپنی الگ تمدن و ثقافت رکھنے والا یہ قبیلہ صرف لگ بھگ چار ہزار افراد پر مشتمل ہے جس کے معدوم ہونے کے خدشات بھی اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں۔ جب کہ اس قبیلے کے لوگ بیرونی دنیا میں اپنے متعلق پائی جانے والی بعض من گھڑت کہانیوں سے بھی نالاں ہیں۔

اسی بنا پر 'چاؤموس' کی اہمیت اور تفصیل اسی قبیلے کی ایک فرد سعید گل سے حاصل کی گئی جو کہ ایک عرصے سے کالاش تہذیب و ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

سعید گل نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کالاش عقیدے کے مطابق اس تہوار میں ایسی مقدس عبادات کی جاتی ہیں جن کے عام دنوں میں ادا کرنے کی ممانعت ہوتی ہے۔

"عام دنوں میں یہ عبادت نہیں کرتے، جو مقدس گیت ہوتے ہیں وہ اس کے علاوہ ہم زبان پر نہیں لاتے۔ ان عبادات کو ہم اُن جَستا کہتے ہیں۔ مطلب پاک، خالص۔ وہ سب اس تہوار سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کی جاتی ہیں۔ کالاش مذہب کا جو بھی طریقہ ہے وہ سب اس (تہوار) میں ادا کیا جاتا ہے۔"

اس قبیلے کے ایسے بچے جو سات سال کے ہو جاتے ہیں 'چاؤموس' کے دوران انھیں پہلی مرتبہ کالاش کا روایتی لباس پہنا کر اس مذہب میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکی کا بھی ایک عمل ہوتا ہے جو کہ اسی تہوار میں کیا جاتا ہے کیونکہ جو لوگ پاک نہ ہوں وہ تین دن تک اس تہوار میں شرکت نہیں کرسکتے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سعید گل بتاتی ہیں کہ مردوں اور خواتین کو پاک بنانے یا کرنے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے۔

"لڑکے جب چھوٹے ہوتے ہیں تو ان کو پانی سے پاک کرتے ہیں۔ ایک سال کا جب ہو تو اس کو جشنِ بہار میں دودھ سے پاک کرتے ہیں۔ جب وہ بڑا ہو جاتا ہے سات آٹھ سال کا تو اس کو بکرے کے خون سے پاک کرتے ہیں اس خون کے چھینٹیں وغیرہ مار کر۔ خواتین کا طریقہ مختلف ہے یہ ایک رسم ہوتی ہے جس کو ہم شوشاؤ کہتے ہیں۔ گاؤں سے اوپر بکریوں کے باڑے میں مرد روٹیاں بناتے ہیں۔ وہ خواتین کے ہاتھ میں دے کر صنوبر کی ایک شاخ انھیں تھما دی جاتی اس کا بھی ایک مخصوص طریقہ ہوتا ہے۔"

چاؤموس تہوار کے پہلے ہفتے میں عمومی طور پر کالاش قبیلے کے علاوہ کسی کو اس تہوار میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی جب کہ دوسرے ہفتے میں سیاح اور دیگر لوگ بھی ان خوشیوں میں شریک ہو سکتے ہیں اور اس قدیم قبیلے کو جشن مناتے دیکھ سکتے ہیں۔

اس تہوار میں کالاش لڑکیاں اپنے لیے پسند کیے گئے لڑکوں کے ساتھ خاندان کی مرضی سے شادی بھی کرتی ہیں۔ لیکن سعید گل کا کہنا تھا کہ یہ شادی بیاہ کی رسمیں صرف اسی تہوار تک محدود نہیں بلکہ وہ سال میں کسی بھی وقت ہو سکتی ہیں لیکن چونکہ یہ ایک اہم تہوار ہوتا ہے اور تمام لوگ جمع ہوتے ہیں لہذا اس موقع پر شادی بیاہ کا اہتمام بھی کر لیا جاتا ہے۔

یہ تہوار 22 دسمبر تک جاری رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG