رسائی کے لنکس

'چیلسی حملہ آور‘ پر ساتھی قیدیوں کو شدت پسندی پر مائل کرنے کا الزام


احمد خان رحیمی (بائیں) عدالت لے جاتے ہوئے (فائل)

امریکہ میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ نیو جرسی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جسے نیویارک شہر میں واقع مین ہیٹن کے علاقے چیلسی میں خود ساختہ بم نصب کرنے کا مجرم قرار دیا تھا، اس پر الزام ہے کہ اُس نے جیل میں دیگر قیدیوں کو داعش کے شدت پسندی پر مبنی نظریے کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔

احمد خان رحیمی کو وفاقی قانون کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار کے استعمال اور عوامی مقامات پر بم دھماکے کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کا سامنا ہے۔ اس کو یہ سزا 13 فروری کو سنائی جائے گی۔

مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں منگل کو جمع کروائی گئی دستاویزات میں استغاثہ نے کہا ہے کہ مین ہیٹن کے جیل میں رحیمی نے اپنے ساتھی قیدیوں میں "دہشت گردی سے متعلق پروپیگنڈا مواد " تقسیم کیا۔

استغاثہ نے کہا کہ اس مواد میں داعش کے ایک رسالے کے شمارے اور القاعدہ کے سابق رہنما اور اسامہ بن لادن کی تقاریر شامل تھیں۔

جیل کے عملے کو رحیمی کے سامان سے ایک ایسی نوٹ بک ملی ہے جس پر جیل میں بند دیگر قیدیوں کےنام در ج ہیں جنہیں دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہے۔

استغاثہ کے مطابق دیگر قیدیوں میں سجمیر علی محمدی بھی شامل ہے جس پر الزام ہے کہ اُس نے قانون نافذ کرنے والے ایک اہلکار کو شام میں جا کر داعش میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے مدد کی پیشکش کی تھی، تاہم اس اہلکار نے اپنی شناخت کو ظاہر نہیں کیا تھا۔

اس کے علاوہ مہند محمود علی الفارغ بھی شامل ہے جسے افغانستان میں ایک امریکی فوجی اڈے پر القاعدہ کی طرف سے بم نصب کرنے کے منصوبے میں مدد دینے پر گزشتہ سال ستمبر میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

فیڈرل ڈیفنڈر آف نیویارک نامی غیر سرکاری تنظیم کا ایک وکیل رحیمی کی طرف سے عدالت میں پیش ہوا تھا، اس گروپ نے رواں ماہ قبل ازیں اس مقدمے سے یہ علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

رحیمی کے موجودہ وکیل زیوئیر ڈونلڈسن سے جب منگل کو ان کا ردعمل جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے فوری طور کچھ بھی نہیں کہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG