رسائی کے لنکس

واشنگٹن میں چیری بلاسم کی بہار ۔۔۔

ان درختوں پر سفید اور گلابی رنگ کے نازک پھولوں کی بہار کیا آئی ان اندازا پندرہ لاکھ سیاحوں کی بھی جان میں جان آئی جو صرف ان پھو لوں کی بہار دیکھنے آ جکل امریکی دارلحکومت میں موجود ہیں۔

تو آخر کار واشنگٹن ڈی سی میں جاپان کی جانب سے امریکیوں کو ایک سو ایک سال پہلے دیئے جانے والے تاریخی تحفے یعنی چیر ی بلاسم کے درختوں پر موسم ہوا مہربان اور آ گئی ان پر بھی بہار۔

ان درختوں پر سفید اور گلابی رنگ کے نازک پھولوں کی بہار کیا آئی ان انداز۱ًٍ پندرہ لاکھ سیاحوں کی بھی جان میں جان آئی جو صرف ان پھو لوں کی بہار دیکھنے آ جکل امریکی دارلحکومت میں موجود ہیں۔

پچھلے ویکنڈ پر ان سیاحوں کی مایوسی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی جو ان پھولوں کے کھلنے کی امید میں واشنگٹن شہر کے مرکزی حصے میں واقع ٹائیڈل بیسن کے علاقے میں ایک بڑی تعداد میں پہنچے تھے۔ اب آپ سے کیا چھپانا میں بھی کچھ ایسی ہی امید لیئے یہاں آئی تھی۔ ٹائیڈل بیسن دریائے پوٹومیک کا ایک سرا ہے جس کے ارد گرد زیادہ تر یوشینو نسل کے چیری کے لگ بھگ چار ہزار درخت لگائے گئے ہیں۔ لیکن چند درختوں کو چھوڑ کر ان میں سے کسی درخت پر بھی پھول نظر نہ آئے۔ پھولوں سے بھرے صرف تین یا چار درختوں کے گرد درجنوں سیاح اپنے کیمروں کے ساتھ تصاویر لینے کے لیئے باریوں میں کھڑے تھے ۔ان کے گھیرے میں موجود درخت اس ساری توجہہ سے کچھ شرمائے اور گھبرائے ہوئے سے لگے۔

لیکن آج صبح جب میں اپنے ایک انٹرویو کے لیئے ٹائیڈل بیسن پہنچی تو ماحول بلکل بدل چکا تھا۔

ٹائیڈل بیسن کے ارد گرد موجود چیری کے درخت پھولوں سے ایسے لدے ہوئے تھے کہ ان کی ٹہنیاں ان کے بوجھ سے جھکی جا رہی تھیں۔ جہاں قریب سے ان کا بے تحاشا حسن آنکھوں میں سمونا مشکل ہو رہا تھا تو دور سے لوگوں کو اپنی جانب آنے پر مجبور بھی کر رہا تھا۔ بس جلدی جلدی انٹرویئو ختم کیا۔ کیمرہ کریئو کو فارغ کیا۔ اور اپنا کیمرہ سنبھال لیا۔ اور وہاں کچھ ٹورسٹز سے بات بھی کی۔

ایک جاپانی سیاح نے، جنہو ں نے تصویر کھنچوانے سے تو معذرت کرلی، یہ بتایا کہ جاپان میں تو ان پھولوں کا نمک کے پانی میں اچار بنایا جاتا ہے۔ اور پھر اس اچار کی چائے بنائی جاتی ہے۔ ہے نہ عجیب بات؟

دو چھوٹی بچیوں اور پرنانی سمیت تاجکستان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان جوڑا بھی ان پھولوں کو سراہنے والوں کے ہجوم میں شامل تھا۔ وہ واشنگٹن ہی میں رہتے ہیں۔ لیکن واشنگٹن کے بہت سے ان رہائیشیوں کے برخلاف جو چیری بلاسم کے ساتھ گھر کی مرغی دال برابر کا سا سلوک کرتے ہیں یہ جوڑا ہر سال یہاں آتا ہے۔

پھر امریکہ نئے نئے آنے والے نوجوان سٹوڈنٹز کے گروپ سے بھی ملاقات ہوئی۔ جن میں سے زیادہ تر کے مطابق وہ ایسی خوبصورتی پہلی بار دیکھ رہے تھے۔

اس آرٹیکل کے ساتھ لگائی گئی تصاویر ضرور دیکھیئے۔ اگر آپ یہاں موجو د نہیں تو کیا ہوا میرے کیمرے کی آنکھ سے تو یہ حسن دیکھ سکتے ہیں۔

واشنگٹن کا چیری بلاسم ۔۔۔

ٹائیڈل بیسن کے گرد لگے چیری بلاسم کے درخت اور پیڈل بوٹز پر ان کا لطف اٹھاتے لوگ
1/12 ٹائیڈل بیسن کے گرد لگے چیری بلاسم کے درخت اور پیڈل بوٹز پر ان کا لطف اٹھاتے لوگ
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
پھولوں سے بھرا چیری کا ایک درخت ۔۔۔
2/12 پھولوں سے بھرا چیری کا ایک درخت ۔۔۔
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
چیری کے پھولوں سے کھیلتی ایک ننھی بچی
3/12 چیری کے پھولوں سے کھیلتی ایک ننھی بچی
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
تین سال سے یہاں ہر سال آنے والا ایک جوان جوڑا، دو بچیوں اور ان کی پڑ نانی کے ساتھ
4/12 تین سال سے یہاں ہر سال آنے والا ایک جوان جوڑا، دو بچیوں اور ان کی پڑ نانی کے ساتھ
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
چیری اس ہی نباتاتی گروپ میں شامل ہے جس میں خوبانی، آڑو اور آلو بخارا شامل ہیں۔ شاید اس ہی لیے ان کے پھول ملتے جلتے ہیں۔
5/12 چیری اس ہی نباتاتی گروپ میں شامل ہے جس میں خوبانی، آڑو اور آلو بخارا شامل ہیں۔ شاید اس ہی لیے ان کے پھول ملتے جلتے ہیں۔
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
یہ پھول صرف چودہ پندرہ روز تک ہی ان درختوں پر رہیں گے
6/12 یہ پھول صرف چودہ پندرہ روز تک ہی ان درختوں پر رہیں گے
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
انتہائی قریب سے دیکھنے پر یہ کچھ ایسے نظر آتے ہیں۔
7/12 انتہائی قریب سے دیکھنے پر یہ کچھ ایسے نظر آتے ہیں۔
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
سیاحوں کی ایک بڑی تعداد واشنگٹن میں بہار کے ان اترتے رنگوں کو دیکھنے آتی ہے۔
8/12 سیاحوں کی ایک بڑی تعداد واشنگٹن میں بہار کے ان اترتے رنگوں کو دیکھنے آتی ہے۔
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
یہ درخت اپنے سفیدی مائل پھولوں کی بہار کی وجہ سے بعض مقامات پر میلوں دور سے دیکھے جا سکتے ہیں۔
9/12 یہ درخت اپنے سفیدی مائل پھولوں کی بہار کی وجہ سے بعض مقامات پر میلوں دور سے دیکھے جا سکتے ہیں۔
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
نئے نئے امریکہ آنے والے ایک مقامی کالج کے ان طلبہ کے لیے چیری بلاسم کی یہ بہار دیکھنا انوکھا تجربہ ہے۔
10/12 نئے نئے امریکہ آنے والے ایک مقامی کالج کے ان طلبہ کے لیے چیری بلاسم کی یہ بہار دیکھنا انوکھا تجربہ ہے۔
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
لوگوں کا ہجوم ۔۔۔ لیکن کسی قسم کی بے صبری نہیں۔
11/12 لوگوں کا ہجوم ۔۔۔ لیکن کسی قسم کی بے صبری نہیں۔
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
چیری کے یہ درخت واشنگٹن کو 1912 میں جاپان کی طرف سے بطور تحفہ دئیے گئے تھے۔
12/12 چیری کے یہ درخت واشنگٹن کو 1912 میں جاپان کی طرف سے بطور تحفہ دئیے گئے تھے۔
اردو وی او اے کی نمائندہ عائشہ خالد کے کیمرے سے واشنگٹن ڈی سی میں موسم ِ بہار کے رنگ دیکھئے۔
مزید Show less
Previous slide
Next slide
  • 16x9 Image

    عائشہ خالد

    Aisha Khalid is a Washington based broadcast Journalist reporting for VOA News Urdu TV
This item is part of
​
XS
SM
MD
LG