رسائی کے لنکس

logo-print

شطرنج نے عالمی وبا کے دوران لوگوں کو ذہنی دباؤ سے بچایا


پیمپولنا کی ایک گلی میں لوگ شطرنج کھیل رہے ہیں۔ 14 جوکائی 2021 (تصویر اے ایف پی)

شطرنج کے کھلاڑیوں کا کھیل میں محو ہو کر دنیا سے بے خبر ہو جانا ایک ضرب المثل کا درجہ رکھتا ہے۔ لیکن شطرنج کے کھیل نے دنیا کے کروڑوں لوگوں کو عالمی وبا کے دوران شدید اعصابی تناؤ کی کیفیت سے بچایا اور لوگوں کی ذہنی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، عالمی وبا کے باعث دنیا بھر میں عائد بندشوں کے ماحول میں شطرنج کا کھیل لوگوں کو یکسر مختلف حالات میں ڈھالنے اور مشکلات کے سامنے ڈٹ جانے کی ترغیب دینے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

شطرنج کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ میں لوگوں کی اس کھیل میں دلچسبی دو گنا بڑھ گئی ہے اور اب پہلے سے کہیں زیادہ تعداد میں لوگ شطرنج کے آن لائن مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تقریباً تمام ہی کھیل لوگوں میں تناؤ اور ذھنی پریشانی میں کمی لاتے ہیں، لیکن جہاں تک شطرنج کا تعلق ہے تو اس میں شاطرانہ اور سائنسی انداز میں سوچ اور اس کھیل کے فن کے امتزاج نے اسے ثقافتی کھیلوں میں نمایاں مقام دے دیا ہے اور یہ کھیل نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔

مزید یہ کہ شطرنج کا کھیل سب لوگوں کے لیے بلا تفریق آسانی سے دستیاب ہے اور یوں سب کی شمولیت کو ممکن بناتا ہے، کیونکہ یہ لسانی، صنفی، مادی اور عمر کی تفریق سے آزاد ہے۔ دنیا کا کوئی بھی شخص اسے کھیل سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شطرنج کا کھیل منصفانہ انداز کو فروغ دیتا ہے اور ایک دوسرے کا احترام بھی سکھاتا ہے۔ لہذا، اس دلچسب کھیل سے لوگوں اور قوموں کے بیچ باہمی برداشت اور تفہیم کو فروغ دینے میں بھی مدد ملتی ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت دنیا میں ساٹھ کروڑ سے زائد بالغ افراد باقاعدگی سے شطرنج کھیلتے ہیں۔

امریکہ، برطانیہ، جرمنی، بھارت اور روس میں 70 فیصد بالغ افراد اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر شطرنج ضرور کھیلتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG