رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ میں بچوں سے جنسی تشدد کا مفرور مجرم پاکستان میں گرفتار


برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اور پاکستانی سیکورٹی اداروں نے مشترکہ کارروائی میں شانگلہ سے اخلاق حسین کو گرفتار کیا۔ 31 جنوری 2019

بچیوں کے ساتھ زیادتی کے الزام میں برطانیہ کو مطلوب ایک شخص کو پاکستان کے سیکورٹی اداروں اور برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے ایک مشترکہ آپریشن میں گرفتار کر لیا ہے۔

اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ مشترکہ کارروائی پنجاب کے ایک شہر سانگلہ میں کی گئی، جس میں ایف آئی اے، پنجاب پولیس اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے حصہ لیا۔

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق مجرم اخلاق حسین کو بچوں کے ساتھ زیادتی کے الزام میں 19 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس پر 2 بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور ایک کے ساتھ ریپ کی کوشش کا الزام تھا۔

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں تحقیقات کے دوران معصوم بچیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے افراد کی نشاندہی ہوئی تھی۔

ہائی کمیشن کے مطابق اخلاق حسین اپنے خلاف جاری مقدے کے دوران فرار ہو کر پاکستان چلا گیا تھا۔ برطانوی حکام 2017 سے اخلاق حسین کی گرفتاری کے لیے پاکستانی حکام سے رابطے میں تھے۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے اخلاق حسین کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی سطح پر جرائم کے خاتمے کے لئے پاکستان اور برطانیہ کے اشتراک کی ایک نمایاں مثال ہے۔

تھامس ڈریو نے کہا کہ اخلاق حسین کی گرفتاری مجرموں کے لئے ایک پیغام ہے کہ پاکستان جرائم پیشہ لوگوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔

انہوں نے ایف آئی اے اور پنجاب پولیس کا شکریہ بھی ادا کیا، جنہوں نے اس مشترکہ آپریشن میں حصہ لیا۔

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کی تحویل کا معاہدہ نہ ہونے کے باوجود ان کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں شاہد محمد نامی ایک شخص کو برطانیہ کے حوالے کیا گیا تھا جو 5 بچوں سمیت 8 افراد کے قتل میں برطانیہ کو مطلوب تھا۔

اخلاق حسین کو اب عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں اس کی برطانیہ حوالگی کی کاروائی ہو گی اور عدالتی حکم کے بعد جلد اسے برطانیہ بھجوا دیا جائے گا۔

پاکستان میں بچوں پر جنسی تشدد کے کئی کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔ گزشتہ سال 5 سالہ بچی زینب کے ساتھ ریپ اور قتل کے مجرم عمران کو تیز تر سماعت کے بعد پھانسی دے دی گئی تھی۔ لیکن اس کے باوجود بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG