رسائی کے لنکس

جنگوں کی قیمت بچے ادا کر رہے ہیں: یونیسیف


یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فورے نے ایک ویڈیو پیغام میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ جنگوں کے دوران بہت سے بچوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ (فائل فوٹو)

اقوام متحدہ کے ادارے چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسف) کا کہنا ہے کہ تنازعات کا شکار علاقوں میں بچوں پر حملے 2010 سے اب تک تین گنا بڑھ چکے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ عشرہ بچوں کے لیے انتہائی ہلاکت خیز رہا۔

یونیسف نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ جیسے جیسے یہ دہائی اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے، دنیا بھر میں جاری تنازعات میں بچوں کو مسلسل بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فورے نے ایک ویڈیو پیغام میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ جنگوں کے دوران بہت سے بچوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور یوں وہ اپنے گھروں سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ اس وقت جب کہ لوگ 2020 کی آمد کی خوشیاں منا رہے ہیں، ہمیں ان لوگوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے، جو اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

ہینریٹا فورے کے مطابق آج لاکھوں بچے اور نوجوان شام، یمن، جنوبی سوڈان، وسطی افریقی جمہوریہ اور نائجیریا سمیت ایسے ملکوں میں موجود ہیں، جہاں تنازعات اور جنگوں نے تباہی مچا رکھی ہے۔

یونیسیف نے 2010 کے بعد سے اب تک تنازعات کے علاقوں میں 170,000 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ادارے نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ تنازعات کے شدت اختیار کرنے سے بچوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کہتی ہیں کہ جنگ زدہ علاقوں میں بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کے باعث انہیں ظلم و زیادتی، استحصال اور زبردستی کی شادیوں کا سامنا ہے۔ بہت سے بچوں کو لڑاکا گروہوں میں بھرتی کیا جا رہا ہے اور لاکھوں بچے غذائی قلت اور صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی کا شکار ہو رہے ہیں، اور تحفظ اور تعلیم سے یکسر محروم ہیں۔

یونیسف نے متحارب گروہوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے بچوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو بند کریں۔

یونیسیف نے جنگ زدہ ملکوں میں متحارب گروہوں کی سرپرستی کرنے والے ملکوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ایسے علاقوں میں بچوں کو تحفظ فراہم کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG