رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی غوطہ، 50000 متاثرہ افراد کی امداد کی جائے گی: یونیسیف


بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے، یونیسیف کے ترجمان نے جمعے کے روز کہا ہے کہ شام کے مشرقی غوطہ کے محصور علاقے سے بھاگ نکلنے والے 50000 سے زائد افراد کی اعانت کے منصوبے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

یونیسیف کی خاتون ترجمان، مارکسی مارکاڈو نے جمعے کے روز کی بریفنگ میں بتایا ہے کہ ’’متاثرین کو پناہ گاہیں اور ہنگامی امداد فراہم کرنے کے لیے، اور اُنھیں محفوظ مقامات کی جانب منتقل کرنے کے لیے ہم کام کر رہے ہیں، منصوبے بنائے جا رہے ہیں‘‘۔

بقول اُن کے، ’’ہم 50000 افراد کی امداد کا کام کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

گذشتہ ماہ دمشق کے قریب محصور علاقے کو بازیاب کرانے کے لیے شامی حکومت کی افواج نے مہم شروع کی۔ متاثرین کا سب سے بڑا انخلا جمعرات کو باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی غوطہ کے قصبے ہموریہ سے ہوا، جب ہزاروں کی تعداد میں شہری آبادی بھاگ نکلی۔ یہ بات انسانی حقوق پر نگاہ رکھنے والے ادارے، ’سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے بتائی ہے۔

روس نے کہا ہے کہ انخلا پر مجبور ہونے والے افراد کی تعداد 12000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

مشرقی غوطہ میں دوسرے روز جمعے کو فضائی حملے جاری رہے، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے شامی اور روسی حکومتوں کے ساتھ ساتھ لڑائی میں ملوث دیگر شرکا پر الزام لگایا ہے کہ ’’لاکھوں شامی متاثرین‘‘ کی تکالیف دور کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور مشرقی غوطہ اور آفرین میں شہری آبادی پر کیے جانے والے حملے نہیں روکے جا سکے۔

’ہیومن رائٹس گروپ‘ نے کہا ہے کہ مشرقی غوطہ میں 400000 کی تعداد میں شہری آبادی متاثر ہوئی ہے، ’’جنھیں روسی پشت پناہی میں حکومت شام بھوکا مار رہی ہے، جب کہ اُن پر بغیر سوچے سمجھے بم حملے کیے جا رہے ہیں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG