رسائی کے لنکس

logo-print

چین فلم و ٹی وی سے پاکستانیوں کے دل جیتنے کی کوشش کر رہا ہے: رپورٹ


فائل فوٹو

چین پاکستان سے تجارتی تعلقات بڑھانے کے بعد اب عوامی سطح پر لوگوں کے دل جیت کر قریب آنا چاہتا ہے۔ جس کے لیے روایتی میڈیا کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال بھی بھرپور انداز میں کیا جا رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) جیسا بڑا منصوبہ شروع ہونے کے بعد چین اب فلم اور ٹی وی کے ذریعے پاکستانیوں کے دلوں میں نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

60 ارب ڈالرز کی لاگت کا سی پیک منصوبہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ کا حصہ ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل ’پاکستان ٹیلی ویژن‘ کے عہدے داروں نے ’رائٹرز‘ کو بتایا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں چین نے سرکاری اور دیگر کمرشل ٹی وی چینلز کو دستاویزی فلمیں، ڈرامے اور دیگر پروگرامز مفت فراہم کیے ہیں جس کا مقصد ثقافتی تعلقات کا فروغ ہے۔

دوسری جانب چین کے سرکاری ریڈیو ’چائنہ ریڈیو انٹر نیشنل‘ کے نمائندے چین شی آنگ نے کہا ہے کہ ہم نے امریکہ، برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے تجربے سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا چین کو سمجھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں لوگ چین کے بارے میں سچائی جانیں کہ حقیقی چین کیسا ہے۔ ریڈیو پروگرامز، ٹی وی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے ہم ایسا کر سکتے ہیں۔

چین پاکستان میں اپنے سرکاری ثقافتی ادارے 'کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ' کے ذریعے بھی چینی زبان سکھانے اور مختلف ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد کرتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی چینی ثقافت سے واقف اور مانوس ہو جائیں۔

رواں برس کے آغاز میں ’پی ٹی وی ورلڈ‘ سے پہلی چینی کارٹون سیریز بھی نشر کی گئی تھی جس کا نام ’تھری ڈراپس آف بلڈ‘ تھا۔

اس کارٹون سیریز کا پریمیئر سرکاری امداد سے چلنے والی پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں ہوا تھا۔ جس کی عمارت کا بڑا حصہ چینی سفارت خانے نے چائنہ کلچرل سینٹر کے لیے کرائے پر لیا ہوا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی سے رواں برس پہلی چینی کارٹون سیریز نشر کی گئی تھی۔ (فائل فوٹو)
پاکستان کے سرکاری ٹی وی سے رواں برس پہلی چینی کارٹون سیریز نشر کی گئی تھی۔ (فائل فوٹو)

اسلام آباد میں 2017 میں چینی زبان کا پہلا اخبار بھی شروع کیا گیا تھا جو اب بھی ’ہوشنگ‘ کے نام سے باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ اس اخبار کے پڑھنے والوں کی تعداد اب 60 ہزار افراد تک پہنچ چکی ہے۔

چینی زبان اب پاکستان میں انگریزی کے لیے چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ تقریباً 25 ہزار افراد پاکستان میں جب کہ 22 ہزار پاکستانی چین میں رہ کر چینی زبان کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

چینی شہریوں کی پاکستان میں موجودگی اب واضح طور پر نظر آنے لگی ہے۔ پاکستان میں چینی باشندوں سے شادیوں کا رواج بھی بڑھ رہا ہے۔ ان شادیوں میں اکثر دلہن پاکستانی اور دُلہا چینی ہوتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف کامن ویلتھ اسٹڈیز کی ریسرچ ایسوسی ایٹ فیلو ڈاکٹر کرن حسن کے مطابق چین پوری دنیا میں اپنا سافٹ امیج بنانے میں دلچپسی رکھتا ہے اور پاکستانی اس کا گرم جوشی سے جواب دے رہے ہیں۔

کرن حسن کے بقول پاکستان میں لوگ چینی نقطۂ نظر کو خوش آمدید کہنے کو تیار ہیں۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ چین انہیں اقتصادی مواقع فراہم کر رہا ہے۔

اویس چوہدری چینی زبان سیکھنے کے لیے پاکستان کے شہر فیصل آباد سے لاہور آئے ہیں اور چائنہ لینگویج انسٹی ٹیوٹ میں چھ ماہ سے زائد عرصے سے چینی زبان سیکھ رہے ہیں۔

اویس چوہدری نے ’رائٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین ہمارا ہمسایہ ملک ہے۔ پاکستان چین کو بڑے پیمانے پر مختلف سامان درآمد کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں مارکیٹنگ کے نکتہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے چینی زبان سیکھ رہا ہوں۔

چین کے اعلیٰ حکام پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی روایتی پگڑی میں
چین کے اعلیٰ حکام پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی روایتی پگڑی میں

چینی منصوبوں پر تنقید:

’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے سافٹ پاور کے تصوّر کو ابھی اتنا سافٹ نہیں سمجھنا چاہیے کیوں کہ چین کی مدد سے تعمیر کیے گئے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کو تنقیدی نظروں سے دیکھا جا رہا ہے۔

کوئلے کے پاور پلانٹس سے ماحولیاتی آلودگی جنم لے رہی ہے۔ دنیا بھر میں کوئلے سے بجلی بنانے پر پابندی عائد ہے لیکن پاکستان میں چین کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کو سستا طریقہ بتا رہا ہے۔

’رائٹرز‘ کے مطابق کوئلے کے ان بجلی گھروں کا فائدہ پاکستان سے زیادہ چینی کمپنیوں کو ہے۔

چین اس حوالے سے بھی تنقید کی زد میں ہے کہ سی پیک منصوبے کے نقصانات بھی رفتہ رفتہ سامنے آ رہے ہیں۔

میڈیا اور تھنک ٹینکس کے خیال میں دونوں ملکوں کو اپنے پراجیکٹس کے بارے میں منفی تاثرات اور جعلی خبروں کا توڑ کرنے کے لیے 'ریپڈ رسپانس انیشی ایٹو' سسٹم بنانا چاہیے۔

بیجنگ کی نیوز آرگنائزیشن اور پاکستان چائنہ انسٹی ٹیوٹ کو ایک مشترکہ تھنک ٹینک چلا رہا ہے جس کا کام سی پیک سے متعلق منفی خبروں کے تاثر کو زائل کرنا ہے۔

پاکستان چائنہ انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفٰی سیّد کا کہنا ہے کہ ہم تمام میڈیا ٹولز استعمال کرتے ہوئے درست معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ہم اپنا پیغام نیوز اینکرز، اخبارات اور ٹوئٹر کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG