رسائی کے لنکس

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے تعاون کیا جائے: چین


چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ (فائل)

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے اور پاکستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی علاقائی ملکوں اور عوام کے بھی مفاد میں ہے۔

چین نے بین الاقوامی برداری پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حمایت کرے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان جین شوانگ نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ثابت قدمی سے برسر پیکار ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علاقائی سلامتی و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے نمایاں قربانیاں دی ہیں۔

چینی وزرات خارجہ کے ترجمان نے یہ بیان اس وقت دیا جب ان سے میڈیا میں آنے والی ان خبروں سے متعلق پوچھا گیا کہ امریکی انتظامیہ پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی کو سخت کرنے پر غور کررہی ہے تاکہ پاکستان میں مبینہ طور پر موجود عسکریت پسندوں کو سرحد پار افغانستان میں کارروائیاں کرنے سے روکا جا سکے۔

شوانگ نے کہا کہ یہ اطلاعات ان کی نظر سے بھی گزری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے اور پاکستان میں امن و استحکام اور اقتصادی ترقی علاقائی ملکوں اور عوام کے بھی مفاد میں ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کے مجوزہ دورہ پاکستان سے متعلق بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اگر ان کے پاس اس حوالے سے کوئی اطلاعات ہوں گی تو وہ مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان چین کے قریبی ہمسایہ ممالک ہیں اور بیجنگ کے ان دونوں ملکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ چین اس بات کی توقع کرتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان آپس کے رابطوں کو مضبوط کر کے باہمی تعلقات کو بہتر کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں چین تعمیری کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو معمول کی بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی رواں ہفتے کے اواخر میں پاکستان کا دورہ کریں گے جب کہ خطے کے اس دورے کے دوران وہ افغانستان بھی جائیں گے۔

پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔ کابل کی طرف سے اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار طالبان دھڑے 'حقانی نیٹ ورک' سے منسلک عناصر کو قرار دیا جاتا ہے جن کے ٹھکانے افغان حکام کے بقول پاکستان میں ہیں۔

پاکستانی عہدیدار ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ تمام دہشت گرد گروپوں کی خلاف بلاتفریق کارروائی کی جارہی ہے اور حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG