رسائی کے لنکس

مسعود اظہر کے معاملے پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے: چین


چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ (فائل فوٹو)
چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ (فائل فوٹو)

چین نے کہا ہے کہ کالعدم شدت پسند گروپ جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی میں بلیک لسٹ کرانے کے معاملے پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو بیجنگ میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ مسعود اظہر کے معاملے پر پیش رفت سے امریکہ بھی آگاہ ہے۔

ترجمان گینگ شوانگ نے کہا کہ گزشتہ جمعے کو سلامتی کونسل کے ارکان نے امریکہ کی طرف سے پیش کی جانے والی مجوزہ قرارداد کے معاملے پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ کونسل کے ارکان کی اکثریت نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کے معاملے پر سلامتی کونسل میں مجوزہ قرارداد پر رائے شماری کے بجائے یہ معاملہ بات چیت اور مشاورت سے سلامتی کونسل کی 1267 کی کمیٹی کے تحت حل ہونا چاہیے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی تعزیراتی کمیٹی میں مسعود اظہر سے متعلق پیش کی جانے والی تجویز کے بعد چین تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ چین تمام فریقوں سے مل کر کام کر رہا ہے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

ترجمان کے بقول امریکہ بھی اس پیش رفت سے سے آگاہ ہے اور اس کے باوجود امریکہ نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کا نام بلیک لسٹ کرنے کی قرارداد پیش کی جس کا قطعی کوئی جواز نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جو کچھ کیا ہے وہ سلامتی کونسل کے ضوابط اور روایت کے مطابق نہیں ہے۔

گینگ شوانگ کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے معاملات پیچیدہ ہو جائیں گے جو جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کے لیے اچھا نہیں ہے۔

فروری میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارت کی سیکورٹی فورسز پر ایک خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنطیم جیشِ محمد کی طرف سے قبول کرنے کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔

کالعدم گروپ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پاکستان میں مقیم ہیں۔

مسعود اظہر پاکستان میں مقیم ہیں۔ (فائل فوٹو)
مسعود اظہر پاکستان میں مقیم ہیں۔ (فائل فوٹو)

اس واقعے کے بعد برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کی تجویز دی تھی جسے چین نے تیکنیکی بنیادوں پر التوا میں ڈال دیا تھا۔ چین کے اس اقدام پر امریکہ اور بھارت نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔

بعد ازاں امریکہ نے فرانس اور برطانیہ کی حمایت سے مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرنے کی مجوزہ قرارداد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں براہِ راست پیش کی تھی جس پر پاکستان اور چین نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ 15 ارکان پر مشتمل سلامتی کونسل میں اس قراداد پر رائے شماری کب ہو گی۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے بیان پر امریکہ کا تاحال کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم گزشتہ ہفتے محکمۂ خارجہ کے معاون ترجمان رابرٹ پلاڈینو نے ایک بیان میں کہا تھا کہ علاقائی استحکام اور سلامتی امریکہ اور چین کا مشترکہ مفاد ہے اور سلامتی کونسل میں مسعود اظہر کو بلیک لسٹ کرنے میں ناکامی اس مقصد کے برخلاف ہو گی۔

کالعدم جیشِ محمد پہلے ہی سے ان تنظیموں میں شامل ہے جن پر سلامتی کونسل کی جانب سے پابندی عائد ہے۔ لیکن تنظیم کے پاکستان میں مقیم سربراہ مسعود اظہر کا نام دہشت گردوں کی بین الاقوامی فہرست میں نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG