رسائی کے لنکس

logo-print

معاشی ترقی کی رفتار چھ فی صد تک رہ سکتی ہے: چین


چین کے صدر شی جن پنگ، فائل فوٹو

چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ اگر کرونا وائرس دوبارہ نہ پھیلا تو ان کا ملک 6 فی صد کے لگ بھگ معاشی ترقی کا ہدف حاصل کر لے گا۔

چین کی حکومت نے جمعے کے روز پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس کے آغاز کے موقع پر پیش کی جانے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں سے ملکی پیداوار کا 2020 کے لیے مقرر کردہ ہدف کو حذف کردیا تھا۔

صدر شی نے اپنی تقریر میں کہا کہ اگر عمومی حالات میں کرونا وائرس دوبارہ نہیں پھیلتا تو ہماری ملکی معاشی ترقی کا ہدف 6 فی صد کے لگ بھگ رہے گا۔

یہ وہ ہدف ہے جو چین کی حکومت نے پچھلے سال کرونا کی وبا شروع ہونے سے پہلے موجودہ سال کے لیے مقرر کیا تھا۔

صدر شی کا کہنا تھا کہ اگر ہم جی ڈی پی کے کسی ایک ہدف پر سختی پر قائم ہو جاتے ہیں تو پھر ہماری پوری توجہ اسے حاصل کرنے پر مرکوز ہو جائے گی۔ لیکن، معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ہماری یہ پالیسی نہیں ہے۔

چین نے کرونا وائرس سے قبل، حالیہ برسوں میں، جب اسے اپنی معیشت کی سست روی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اپنی معیشت کو آسان قرضوں کی فراہمی سے احتراز کیا تھا۔

رائٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے مالی امداد کے جس پیکج کا اعلان کیا ہے، اس کے پیش نظر چین کی سالانہ ترقی 4 فی صد کے لگ بھگ ہو سکتی ہے۔

چین کی پالیسی سے متعلق گروپس کے درمیان اس بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ایک گروپ کا کہنا ہے کہ معیشت کی مدد کے لیے زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق، حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنی مالیاتی پالیسی کو زیادہ لچک دار اور زیادہ متحرک بنائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی توجہ روزگار کے مواقعوں اور مصنوعات کی کھپت میں اضافے پر بھی مرکوز رکھے گی۔

صدر شی نے اپنی تقریر میں اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کے پھیلاؤ کے بعد کچھ چیزیں ہمارے لیے باقی نہیں رہیں۔ عالمی سست روی کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ چیز ہمیں کس حد تک متاثر کرے گی، اس بارے میں ابھی تک کچھ بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG