رسائی کے لنکس

logo-print

واشنگٹن میں تائیوان کی پرچم کشائی سے آگاہی نہیں تھی: امریکہ


بیجنگ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ "ایک چین" کی پالیسی پر کار بند رہے اور تائیوان سے متعلق اس طرح کی کسی اور معاملے کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اس سے "حکمت اور مناسب" طریقےسے نمٹے۔

امریکہ نے واشنگٹن میں تائیوان کے نمائندے کے گھر پر سال نو کے موقع پر پرچم کی اطلاعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

چین کی وزرات خارجہ نے ایک بیان میں اس واقعے پر امریکہ سے احتجاج کرتے ہوئے اس پر زور دیا تھا کہ وہ "ایک چین کی پالیسی" کا احترام کرے۔

امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کو اس تقریب کے بارے میں پہلے سے مطلع نہیں گیا گیا تھا اور یہ امریکی پالیسی کے مطابق نہیں ہے۔

چین تائیوان کو اپنا ایک الگ ہونے والا صوبہ سمجھتا ہے اور اس کو واپس لینے کے لیے طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔ "ایک چین کی پالیسی" کے مطابق چین صرف ایک ہے اور تائیوان اس کا حصہ ہے۔

تائیوان کی "چائنا پوسٹ" اخبار میں ہفتہ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 36 سالوں میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تائیوان کا جھنڈا امریکہ میں لہرایا گیا ہے جب کہ امریکہ نے1979 میں تائیوان کی بجائے چین کو تسلیم کیا تھا۔

اخبار نے واشنگٹن میں تائی پے اقتصادی اور ثقافتی دفتر کے حوالے سے بتایا ہے کہ جعرات کو ہونے والی تقریب میں تائیوان کے اعلیٰ نمائندے سمیت 100 افراد نے حصہ لیا۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہو چن ینگ نے اپنی روزانہ کی بریفنگ میں کہا کہ "ہم امریکہ میں تائیوان کی ایک ایجنسی کی طرف سے نام نہاد پرچم کشائی کی تقریب کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔"

ہو نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ "ایک چین " کی پالیسی پر کار بند رہے اور تائیوان سے متعلق اس طرح کی کسی اور معاملے کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اس سے "حکمت اور مناسب" طریقےسے نمٹے۔

امریکی وزرات خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ امریکہ کو "پر چم لہرانے کی تقریب کے بارے پہلے سے آگاہ نہیں تھا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ،"امریکی حکومت کا کوئی بھی نمائندہ اس تقریب میں شریک نہیں تھا"۔

چین اور امریکہ کے تعلقات میں تائیوان کی وجہ سے برہمی کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔ بیجنگ نے دسمبر میں امریکہ سے اس وقت احتجاج کیا جب صدر براک اوباما نے اس قانون سازی پر دستخط کیے جس کے تحت تائیوان کو چار پیری کلاس گائیڈڈ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔

1949 میں کیمونسٹوں کے ساتھ ہونے والی خانہ جنگی کے بعد قوم پرس فورسز تائیوان بھاگ گئی تھیں اور اس وقت سے لے کر چین اور تائیوان میں علیحدہ علیحدہ حکومت ہے۔

دوسری طرف تائیوان اور چین نے 2008 سےکئی اہم تجارتی اور اقتصادی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں لیکن ان کے درمیان سیاسی اور فوجی شکوک و شبہات کافی گہرے ہیں۔

XS
SM
MD
LG