رسائی کے لنکس

logo-print

’چین بیرونی ناقدین کو چپ کرانے کے لیے اقتصادی دباؤ استعمال کرتا ہے‘


ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ رپورٹ برائے 2020 جاری کر دی گئی ہے۔

2020 کی ہیومن رائٹس واچ کی ورلڈ رپورٹ کے مطابق، چین بیرون ملک نقادوں کو خاموش کرانے اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی نظاموں کو متاثر کرنے کے لیے اپنا اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔

رپورٹ جس میں لگ بھگ ایک سو ملکوں کا جائزہ لیا گیا ہے، دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین کی کوششوں سے اس کے اپنے شہریوں کے حقوق ہی پامال نہیں ہوتے بلکہ اس کا اثر اس کی سرحدوں سے پار دور تک پھیل رہا ہے۔

انگلش پریمئیر لیگ کے ایک کھلاڑی کی جانب سے آن لائن پوسٹ کیے گئے اس پیغام کے بعد، جس میں چین کی اپنی یغور مسلم اقلیت سے متعلق پالیسی پر تنقید کی گئی تھی، بیجنگ نے اس کی ٹیم کے میچ کی براڈ کاسٹنگ منسوخ کر دی، جو لیگ کی سب سے منافع بخش مارکیٹ پر ایک انتباہی وار تھا۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، یہ ان طریقوں میں سے صرف ایک ہے جو چین دنیا بھر میں آزادی تقریر کو دبانے کے لیے اپنے اقتصادی اثر و رسوخ کے استعمال کے لئے بروئے کار لا رہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے لیے چینی ریسرچر یاژیو وانگ کہتے ہیں کہ چین اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں چین کے انسانی حقوق پر تنقید سے متعلق کسی بھی قسم کی سرگرمی یا تقریر کو روکنے کے لیے ڈراتا دھمکاتا رہا ہے۔ چین دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں اپنا اقتصادی اور ثقافتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایسی تقارير کو سنسر کرتا رہا ہے جن میں چینی حکومت پر تنقید کی گئی ہو۔

2020 کی ہیومن رائٹس واچ کی ورلڈ رپورٹ کے مطابق، چین نے صدر زی جن پنگ کی قیادت میں معاشرے کے ان طبقوں پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے جنہیں اس نے خطرناک پایا ہے۔ مثلاً انٹرنیٹ، سرگرم کارکن اور مذہبی گروپس۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کہتے ہیں کہ یہ استبداد کا انتہائی سخت دور ہے جو ہم نے چین میں غالبا ً ثقافتی انقلاب یا اس قسم کے کسی دور کے بعد عشروں میں دیکھا ہے۔ زی جن پنگ بدترین ہیں، جہاں دس لاکھ یا اس سے زیادہ یغور اور ترکک مسلمانوں کو بنیادی طور پر اسلام اور اپنی ثقافتی روایات یا حتیٰ کہ اپنی زبان کی مذمت کرنے پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید میں رکھا گیا ہے۔

گروپ کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر کینتھ روتھ کو اتوار کے روز ہانگ کانگ داخلے سے روک دیا گیا جہاں وہ اس سال کی رپورٹ جاری کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ چینی حکومت نے اس پابندی کو گروپ کی جانب سے ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہروں کی مدد پر سزا قرار دیا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ کا کہنا تھا کہ یہ گروپس ہر طرح سے لوگوں کو انتہائی پر تشدد جرائم پر ابھارنے، ہانگ کانگ کی آزادی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں پر اکسانے کے ساتھ منسلک ہے۔ ان تنظیموں کو ہانگ کانگ کی موجودہ بد امنی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور انہیں اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے سزا دی جانی چاہیے۔

وانگ کہتے ہیں کہ ان ملکوں نے، جہاں انسانی حقوق کا بہت اچھا ریکارڈ رہا ہے، چین اور ان دوسرے ملکوں کی انسانی حقوق کی صورت حال پر کافی کچھ نہیں کہا ہے، جو خود مطلق العنان ہیں، اس کی وجہ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ چین کے ساتھ اقتصادی بندھن ہیں۔

اگرچہ امریکہ نے چین کی کچھ کمپنیوں اور عہدےداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جو چین کے استبداد سے منسلک ہیں۔ تاہم، انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر زی جن پنگ کے ساتھ قربت اور امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر خاندانوں کو الگ کرنے کی امریکی پالیسی نے انسانی حقوق کے مسائل پر امریکی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG