رسائی کے لنکس

logo-print

چین نے ماحولیاتی تبدیلی کے پیرس معاہدے کی توثیق کر دی


اس سے قبل 23 ممالک اس میثاق کی توثیق کر چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر گیسوں کے اخراج میں ان کا حصہ صرف ایک فیصد ہی بنتا ہے۔

چین نے ماحولیاتی کے لیے مضر گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے عالمی میثاق پر دستخط کر دیے ہیں جس کے بعد اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے کی راہ مزید ہموار ہو گئی ہے۔

توقع ہے کہ امریکہ بھی اتوار سے چین میں شروع ہونے والی جی 20 کانفرنس کے قبل گزشتہ برس پیرس میں ہونے والے اس معاہدے کی توثیق کر دے گا۔

دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں سب سے زیادہ حصہ چین کا ہے جس کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے اور یہ دونوں ملک مجموعی طور پر دنیا بھر میں مضر گیسوں کے اخراج کا لگ بھگ 38 فیصد کے ذمہ دار ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی "شینخوا" کے مطابق ہفتہ کو چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے اس معاہدے کی منظوری دی۔

کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے چین کو "عالمی ماحولیاتی (معاملات سے نمنٹے میں) بڑا کردار ادا کرنے میں مدد ملے گی۔"

چین نے اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ جی 20 کانفرنس کی میزبانی سے قبل پیرس معاہدے کی توثیق کر دے گا۔

اس سے قبل 23 ممالک اس میثاق کی توثیق کر چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر گیسوں کے اخراج میں ان کا حصہ صرف ایک فیصد ہی بنتا ہے۔

پیرس میں ہونے والے معاہدے کے مطابق 2050ء تک عالمی سطح پر درجہ حرارت میں اضافے کو دو ڈگری تک محدود کرنے کے لیے اقدام کیے جائیں گے۔

XS
SM
MD
LG